فروا شفقت
سونو اسکول سے واپس آیا،تو آمنہ آپی کے کمرے کی جانب لپکا تاکہ ان کو اپنا ٹیسٹ دکھا سکے، مگر آپی گھر پر ہی نہیں تھیں۔ وہ بھاگتا ہوا ماں کے پاس گیا اور بولا: ”ماما جی آمنہ آپی کہاں گئی ہیں، وہ اپنے کمرے میں نہیں ہیں؟“
ماں بولی: ”بیٹا تمہارے ماموں آئے تھے۔ وہ ان کے ساتھ فیصل آباد گئی ہے، دو تین دن بعد آئے گی۔ تم جلدی سے کپڑے بدل لو۔ کھانا تیار ہے۔“
شام کی شائے کے وقت سونو، اپنی ماما کے ساتھ ٹی وی دیکھ رہا تھا، ماما نے اسے خلاف توقع خاموش دیکھ کر پوچھا: ”کیا بات ہے بیٹا، تم آج باتیں نہیںکررہے، کیا ہوا؟“ سونو نے کہا: ”ماما جب تک گھر کے تمام سدسے (افراد) گھر میں نہ ہوں تو میں بور ہو جاتا ہوں۔ کھیل میں بھی شانتی نہیں ملتی۔“
یہ گفتگو پانچ سالہ سونو کی ہے۔ اس طرح کی بات چیت اس کا روز مرہ کا معمول ہے۔ سونو کی والدہ اس بات پر نہ ہی چونکیں اور نہ ہی انہوں نے اسے ٹوکا۔ یہ صرف سونو کی عادت نہیں ہے بلکہ پاکستانی بچوں کی اکثریت اپنی روز مرہ گفتگو میں ہندی الفاظ کا استعمال بکثرت کرتی ہے۔
قومی زبان، تہذیب وثقافت کے اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ اور ملک کی پہچان ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک کو کم زور بنانے کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ اس ملک کی زبان اور تہذیب کو کم زور کیا جائے، کیوں کہ زبان پر حملے کا تہذیب وتمدن پر براہ راست اثر پڑتا ہے اور یہ کام بھارتی میڈیا بخوبی سرانجام دے رہا ہے۔
اس کے اس گھناونے عزم کی تکمیل میں پاکستانی خواتین کا بہت بڑا حصہ ہے، جن کا دن بھارتی ڈرامے دیکھے بغیر نہیں گزرتا۔ گھر کے کام کاج کے دوران بھی وہ بھارتی ڈرامے ہی دیکھتی رہتی ہیں۔
حضرات تو اس الزام سے بری ہیں، کیوں کہ سارا دن تو وہ گھر سے باہر ہوتے ہیں اور رات کے وقت بھی نیوز چینلز اور خبریں سننے کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج ہمارے ملک میں شرح خواندگی ماضی کی نسبت بڑھ تو گئی ہے، مگر اب بھی شعور کی بے حد کمی ہے۔
ماوں کی اکثریت نہیں جانتی کہ تفریح کے راستے کس زہر کو وہ قوم کے معماروں کی رگوں میں اتار رہی ہیں، جو خواتین تعلیم یافتہ ہیں اور ملازمت کرتی ہیں، ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھ سکیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہمارے ملک کے بچوں کی زبانوں پر ملکی گانوں کے بجائے بھارتی گانے ہیں اور بھارتی الفاظ کا استعمال ہمارے بچوں کا معمول بن چکا ہے۔ وہ اپنے قومی ہیروز سے بالکل نابلد ہیں، ان کی ترجیحات بھی بدل چکی ہیں۔
خواتین کو اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ مقام ”ماں“ عطا کیا ہے۔ وہ صحیح معنوں میں قوم کی معمار ہوتی ہیں۔ اولاد کی تربیت میں زیادہ ہاتھ والدہ کا ہوتا ہے، وہ ہی بچے کو ہر اچھی بری بات میں تمیز کرنا سکھاتی ہے۔ تمام پاکستانی ماوں کو چاہیے کہ وہ فضول قسم کے بھارتی ڈرامے دیکھنا بند کریں، جو نہ صرف وقت کا زیاں ہیں، بلکہ ہماری تہذیب و ثقافت کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
کیا آپ چاہتی ہیں کہ جن بچوں نے کل ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالی ہے، ان پر بھارتی میڈیا کے اثرات ہوں اور وہ اپنی تہذیب سے نا آشنا ہوں۔ روز محشر آپ اس تربیت کی اللہ تعالیٰ کو جواب دہ ہوں گی، تو بتایئے کہ اپنے جگر کے ٹکڑوں کی تریبت کا فریضہ آپ خود سر انجام دیںگی یا بھارتی میڈیا؟