|
نصیر آباد:خواتین کو زندہ درگور کرنے پر چار ملزمان کو عمر قید،جرمانہ |
|
|
|
منگل, 09 مارچ 2010 17:46 |
|
نصیر آباد…انسداد دہشت گردی نصیر آباد اور جعفر آباد کی عدالت نے زندہ درگور کیس میں چار ملزمان کو عمر قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی ہے۔ خواتین کو زندہ درگور کرنے کا واقع تقریباً دو سال قبل نصیر آباد کے نواحی گاؤں گوٹھ گورنگ میں پیش آیا۔واقع میں خواتین کو سیاہ کاری کے الزام میں زندہ درگور کیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کے رہنماؤں نے اس واقع کو ریکارڈ پر لائے ،جس کے بعد پولیس کی مدعیت میں نصیر آباد میں واقع کوٹ خان میں مقدمہ درج کیا گیا اور اس ساتھ ساتھ اس واقع کا نوٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے لیتے ہوئے پولیس کو حکم دیا کہ واقع میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے۔ پولیس نے اپنی کاروائی تیز کرتے ہوئے ایک سال کے دوران عدالت کے احکامات کے مطابق ایف آئی آر میں نامز تمام بیس افراد کو گرفتار کیا ۔ یہ کیس نصیر آباد جعفرآباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ ملزمان کی گرفتاری کے ایک سال بعد اس کیس کا فیصلہ آج جعفرآباد میں واقع انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سنایا گیا۔ جج محمد عالم مینگل نے تفصیلی مقدمے کی کارروائی کے بعد فیصلہ سنایا۔فیصلے کے مطابق غوث بخش ، سردار اللہ بخش ، محمد عارف اور رحمت اللہ کو پچیس پچیس سال قید اور ایک ایک لاکھ روپے فی کس جرمانہ سنایا، جبکہ اسی مقدمے میں گرفتار سولہ دیگر افراد کو عدم ثبوت کی بنا پر عدالت میں مقدمے سے بری کردیا ہے۔ انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق پانچ اور پولیس رپورٹ کے مطابق دو خواتین کو سیاہ کاری کے الزام میں زندہ درگور کیا گیا تھا۔ |