|
طنزومزاح کا المیہ اور مظفر کا غلغلہ (کے ایم خالد ) |
|
|
|
اتوار, 28 فروری 2010 13:19 |
|
پاکستان کا شمار ان خوش نصیب ممالک میں ہوتا ہے جہاں چیزیں بکثرت پائی جاتی ہے۔طالبان کو ہی لیجیئے چند سال پیشتر یہ صرف افغانستان میں ہی پائے جاتے تھے۔ اب پا کستان ان میںبھی خود کفیل ہے۔ اب وہ پاکستانی طالبان کے نک نیم سے منتظر امریکہ ہیں اور امریکہ ان کے ”ڈوڈے“تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہم سات سمندر پار بیٹھے امریکہ کی نظر کرم کو ترستے تھے۔ آج وہ ہم پر نگاہیں مرکوز کئے ہوئے ہے۔ ساتوں بر اعظم کے ممالک امریکہ سے پناہ مانگتے ہیں اور ہم امریکہ کی ”پناہ“ میں ہیں۔
طنز ومزاح کے حوالے سے پاکستان بنجر نہیں ضرورت فقط ”ٹیل“ تک پہنچے کی ہے۔ ادب کی سر پرستی تو نہ چاہتے ہوئے بھی حکومت پاکستان کرتی ہے۔ اس سلسلے میں چند شمارے ادب اور ادیبوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ مگر طنز و مزاح کے حوالے سے آپ کو خال خال ہی خالد بن حامد ”چاند“ فیم جیسے سر پھرے نظر آتے ہیں جو 1948 سے اس” اشتہاری دور“ میں اشتہار کے بغیر زیادہ نہیں تو ان باسٹھ برسوں میں کروڑوں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں سجا چکے ہیں۔ پاکستان کے تقریباً سارے نامور مزاح نگار ان سے ”مستفید“ ہو چکے ہیں۔ وہ ”کنگ“ تو نہیں مگر ”کنگ میکر“ ضرور ہیں۔
دوسری اصناف سخن کے مقابلے میں مزاح نگاری ایک دقیق فن ہے۔ طنز و مزاح کے اسرار و رموز سے کلی واقفیت ہی طنزو مزاح کی تحریر میں حسن پیدا کرتی ہے۔ قاسمی صا حب کا شمار تو ان چند شخصیات میں ہوتا ہے ”جنہیں تصویر بنا آتی ہے“۔ مگر افراتفری کی اس بھیڑ میں یہ ثابت ہونا باقی ہے کہ مزاح نگار کس کو کہا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے criteria کیا ہے۔نئے مزاح نگاروں کی بد قسمتی ہے کہ مزاح کی سیڑھی پر جو جس ”پوڈے“ پر متمکن ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ کوئی نیچے سے اوپر نہ آجائے۔ نیچے والا خام خیالی میں یہ سمجھ رہا ہے کہ اوپر والے کا بڑا ہوا ہاتھ اس کو پکڑنے کے لئے ہے۔ جبکہ اس کا بڑا ہوا ہاتھ اس کو جھٹکنے کے لئے ہے۔
جو مزاح نگار پندرہ بیس سال سے لکھ رہے ہیں ظاہر ہے ان کے پاس مواد کی کمی تو نہیں۔ ان میں بعض ایسے امیر مزاح نگار ہیںجو اپنے خرچ پر کتابیں تو چھپوا بیٹھے ہیں۔ نکاسی کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ان کے پاس سٹاک گھن کے چکر میں ہے۔ مزاح نگاروں کے ”نمونے“ آپکو چھوٹی بڑی ویب سائٹسں اور چند سر پھرے مزاح کے رسائل میں بکثرت مل جائیں گے۔ درجن بھر کتابوں سے آپ کسی کو مزاح نگاروں کی صف میں شامل نہیں کر سکتے اور صاحب کتاب نہ ہونے سے آپ کسی سے مزاح نگار کا کریڈٹ نہیں چھین سکتے۔ کیونکہ اگر کتابوں کا وزن ہی کسی کو مزاح نگار بنا سکتا ہے تو پھر سید احمد شاہ بخاری پطرس صرف اپنے گیارہ مضامیں اور بمشکل 103صفحات کی کتاب کے ساتھ کیسے طنزومزاح کی معراج پر ہیں۔ جبکہ ایسے ادیب بھی ہیں جن کے سترہ کتابوں کے مصنف ہونے کے باوجو شدید خوا ہش ہے کہ ان کا کوئی سلسلہ اخبار جہاں میں شائع ہو جائے۔ اگر کہیں چوٹی کے مزاح نگار فاروق قیصر یہ کہتے ہیں کہ ”گھگھو گھوڑے سارے پاکستان سے اکھٹے کئے جاتے ہیں اور ان کو اسلام آباد میں لا کر بیچا جاتا ہے“۔ تو ایک نیا مزاح نگار فاروق انجم یہ کہتا ہے ”اسے یوں لگا جیسے وہ سیا ستدان ہو اور کھانے کے لئے اس کے سامنے سارا پاکستان پڑا ہو“۔ اگر مزاح نگار ظفر اقبال مشرف کے بارے میںیہ کہتے ہیں ” غریب کسانوں کے سوا میں نے کسی کا ٹیڈی پیسہ معاف نہیں کیا۔ اگرچہ چک شہزاد میں فارم ہاﺅس کے لئے زمین حاصل کرکے میں غریب کسانوں میں شامل ہو گیا ہوںلیکن پیشتر اس کے کہ میں کوئی قرضہ معاف کرواتا، بد بختوں نے مجھے ایسے ہی چلتا کر دیا“۔ تو معروف مزاح نگار خادم حسین مجاہدمشرف کے بارے میں ”رطب النسان“ ہیں۔ ”آج کل بہت شور مچا ہوا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کا احتساب کیا جائے۔تو یہ کہنا ناانصافی پر مبنی مطالبہ ہے۔ اس سے پہلے کیا سب فرشتے حکومت کرتے تھے۔ اگر نہیں تو کیا آج تک ان کا احتساب ہوا۔ تو پھر پرویز مشرف کا ہی کیوں؟۔ اگر ایسا ہو گیا تو کل کلاں کو لوگ اس حکومت اور جناب صدر کے احتساب کا مطالبہ کر دیں گے جو کوئی خوش آئندبات نہیں“ گو کہ ان دونوں کے خیالات کی ٹکر جہاز اور چنگ چی جیسی ہے مگر بات محبت کی ہے۔اس بات کواگر محبت سے محسوس کریں تو نیا مزاح نگار بھی وہی معرکے مار سکتا ہے ۔
چینلز کے دھڑا دھڑ آنے سے یہ امید بندھی تھی کہ کچھ تو نیا ہو گا ۔مگر یہاں بھی ”دھرو“ ہو رہا ہے۔ آئیڈیاز کی بے دھڑک چوری جاری ہے۔ کہنے کو یہاں سب بکتا ہے۔مگر چینلز کی ”غلام گردشوں“ میں نو آموز بھٹک جاتے ہیں۔ ان کا مال ”زبردستی“ چھین کر اس کا ٹریڈمارک تک تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اور وہ جو ہار آتا ہے اس مال کی چوری کی رپٹ تک نہیں درج ہو سکتی ۔
شوکت علی مظفر نے ”ڈگڈگی“ بجا کر جو نام گنوائے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی نام ”پالنے“ کا نہیں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ”سیکورٹی چیک اپ“ کے بعد لائن میں سب سے آگے کھڑے ہیں۔ اس میں بھی شک نہیںکہ ”ادا۔رے“ پیچھے سے نہ بانٹنا شروع کر دیں۔
|