بینر
 
بینر
55NA ۔کیا کہہ رہا ہے؟ چھاپیے ای میل
ہفتہ, 27 فروری 2010 10:55
راولپنڈی ہار گیا۔ پولیس اور دھاندلی جیت گئے“۔ شیخ رشید احمد جیسے سیاست دان کا یہ تبصرہ، راولپنڈی کے باشعور عوام سے ناانصافی ہے۔ ان انتخابات میں انتظامیہ نے ان کی جتنی نازبرداریاں کیں اور جتنے نخرے سہے اس کی نظیرکم کم ملتی ہے۔ انہوں نے جو چاہا، انہیں ملا۔ 2008ء میں پرویزمشرف صدر تھے۔ فوج، رینجرز، پولیس، انتظامیہ سب کچھ ان کے پنجہ جبر اور شیخ صاحب کے پلڑے میں تھا۔ مسلم لیگ (ن) دشت آمریت کے بگولوں کی زد میں تھی۔ تب بھی ”ن“ کا ووٹ آج سے کچھ زیادہ ہی تھا اور شیخ صاحب ”سید مشرف“ کی سرپرستی کے باوجود صرف پندرہ ہزار ووٹ لے پائے تھے۔ انتخابات عمومی طور پر منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور پرامن تھے۔ نتیجہ بھی وہی نکلا جو آنکھیں رکھنے والوں کو پنڈی کے درودیوار پرکندہ دکھائی دے رہا تھا۔
دو ہفتے قبل 10فروری کو ”شیخ صاحب کومیدان میں رکھیں“ کے عنوان سے شائع ہونے والے کالم میں، میں نے لکھا تھا:
”میڈیا کی عینک سے دیکھنے والوں کا تاثر جو بھی ہو، این اے 55 والوں کے ذہن میں انتخابی نتیجے کے بارے میں کوئی ابہام نہیں۔ بیٹھکوں ، چائے خانوں، چوپالوں اور محفلوں کا موضوع ”کون جیتے گا“ نہیں، صرف یہ ہے کہ نمبر ایک اور نمبر دو کے درمیان ووٹوں کا فرق کتنا ہوگا“۔
یہ شیخ صاحب کا کمال فن تھا کہ انہوں نے چکا چوند کردینے والی میڈیا مہم اٹھائی۔ تصویر، تقریر اور تشہیر کے ہنر کو انہوں نے اس طرح داری سے استعمال کیا کہ ہر ٹی وی اسکرین انہی کی ہو کے رہ گئی۔ مسلم لیگ نے توازن برقرار رکھا۔ چوہدری نثار علی خان نے پہلے مرحلے میں ہی جارحانہ حکمت عملی اپنائی اور بے حد موثر ناکہ بندیاں کرلیں۔ حنیف عباسی نے ایک فاتحانہ مہم اٹھائی اور گلی محلوں تک میں مورچے لگالئے۔ شکیل اعوان کی نامزدگی کو سارے لیگی کارکنوں نے اپنا اعزاز جانا اور اس کی فتح کو اپنی فتح تصور کرتے ہوئے آتش بجاں ہوگئے۔ مسلم لیگ (ن) کے انتخابی حکمت کار، زمینی حقیقتوں کی صورت گری کرنے میں لگے رہے اور شیخ صاحب ٹی وی چینلوں پر لہکتے، مہکتے اور چہکتے رہے۔ انہیں اپنی مقبولیت کا بخوبی اندازہ تھا اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان کی ”کوچوان پارٹی“ ایک تصوراتی ہیولے کے سوا کچھ نہیں۔ ان کا سارا تکیہ پیپلزپارٹی پر تھا جس کا دل لبھانے کے لئے وہ ”قشقہ کھینچا، دیر میں بیٹھا، کب کا ترک اسلام کیا“ کی تصویر بن گئے۔ پیپلز پارٹی اور بھٹو دشمنی، زندگی بھر شیخ صاحب کی سیاست کا محوری نکتہ رہا۔ یہ جملہ شیخ صاحب کی سیاسی شناخت بن گیا کہ ”پیپلز پارٹی سے میری دشمنی، قبر کی دیوار تک جائے گی“۔ لیکن شیخ صاحب نے اس پہچان کو بوسیدہ اترن کی طرح کوڑے دان میں پھینک دیا۔ یکایک انہوں نے ”بھٹو شہید“ کہنا شروع کردیا۔ انتخابی مہم کے آخری جلسے سے خطاب کرنے سے قبل انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی جائے شہادت پر حاضری دی اور فاتحہ پڑی۔ لیاقت باغ کا اسٹیج یوں سجا کہ اس کے دائیں اور بائیں محترمہ کے جہازی سائز کے پورٹریٹ ایستادہ تھے۔ ان کا کوئی جلسہ ایسا نہ تھا جس میں پی پی پی کے پرچم نہ لہرائے اور جئے بھٹو کے نعرے نہ لگے ہوں۔ پندار کا صنم کدہ ویران کرنے اور کوچہ رقیب میں سر کے بل جانے کے باوجود شیخ صاحب منزل مراد نہ پاسکے۔ آٹھ سال قبل انہوں نے ایک ٹھوکر نواز شریف سے ناتا توڑ کر کھائی تھی۔ دوسری بے وفائی انہوں نے اپنے آپ سے کی جب وہ پی پی پی کی دہلیز پر سجدہ ریز ہوگئے۔ نہ جانے اپنے آپ کو کند چھری سے ذبح کرتے ہوئے شیخ صاحب پہ کیا گزری ہوگی؟
انتخابی نتائج ریاضی کے فارمولے کی طرح دو ٹوک، واضح اور غیرمبہم رہے۔ 2008ء کی نسبت ان انتخابات میں پولنگ کی شرح تقریباً چار فیصد کم رہی۔ مسلم لیگ (ن) نے کم و بیش اسی تناسب سے ووٹ حاصل کرکے واضح کردیا کہ دو سال بعد بھی اس کی مقبولیت برقرار ہے۔ دو سال قبل شیخ صاحب نے 15780 اور پیپلز پارٹی نے 37397 ووٹ لئے تھے۔ یہ مجموعہ تقریباً 53ہزار بنتا ہے۔ گیارہ ہزار تین دوسرے امیدواروں کو چلے گئے۔ بیالیس ہزار شیخ صاحب نے سمیٹ لئے۔ جو مسلم لیگ (ق) جمعیت علمائے اسلام (ف)، پیپلز پارٹی اور عوامی مسلم لیگ کے مشترکہ امیدوار تھے۔ جس طرح بعض چینلز اور تجزیہ کار حلقہ 55 کی صحیح صورتحال واضح کرنے کے بجائے عوام کو گمراہ کرتے رہے، اسی طرح آج وہ یہ مغالطہ پھیلا رہے ہیں کہ شیخ صاحب نے پندرہ ہزار سے چھلانک لگا کر بیالیس ہزار تک پہنچ کر شکست فاتحانہ کا مظاہرہ کیا ہے۔ حقیقت بالکل مختلف ہے۔ اگر ”ن“ کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کا توانا امیدوار کھڑا ہوتا تو شیخ صاحب سات آٹھ ہزار سے زیادہ ووٹ نہ لے سکتے۔ آئندہ بھی جب کبھی پیپلزپارٹی کا امیدوار، ”ن“ کے مقابلے میں آئے گا، شیخ صاحب دس ہزار سے زائد ووٹ نہ لے سکیں گے۔ کوئی چاہے تو لکھ کر رکھ لے۔
جس طرح مشرف کے خیمہ زرتاب سے محروم ہوجانے والا سارا دستر خوانی قبیلہ، وقت کی کڑی دھوپ میں جل رہا ہے، اسی طرح شیخ صاحب بھی نامہرباں موسموں کی زد میں ہیں۔
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
تمام عمر چلے اور گھر نہیں آیا
شیخ صاحب کی عوامی مسلم لیگ، صحرا کی جلتی بلتی ریت کو کیفیت گلاب بنانے کی کوشش ثابت ہوئی۔ اب شیخ صاحب کے آپشنز بری طرح سکڑ گئے ہیں۔ وہ شدید ذہنی خلفشار کا شکار ہیں۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے کسی قد آور رہنما کے بجائے نچلی سطح کے ایک سیاسی کارکن سے ہار گئے۔ کہا جاتا ہے کہ لیگی قیادت نے سوچ سمجھ کر یہ منصوبہ بنایا تاکہ شیخ صاحب کو ان کی ”اوقات“ یاددلائی جاسکے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اپنے جلسوں کی رونق بڑھانے والے شکیل اعوان سے ہارنے کے بعد شیخ صاحب کی سیاست کا باب بند ہوگیا ہے۔ ان کے سامنے البتہ دور راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ ہمیشہ کے لئے عملی سیاست سے دستکش ہوکر پیر پگارا سے خرقہ نیابت لے کر ان کا خلیفہ بن جائیں۔ دوسرا یہ کہ وہ باضابطہ طور پر پیپلز پارٹی میں شامل ہوکر بچی کھچی عمر، اپنی میت اپنے کندھوں پر اٹھاتے پھرتے رہیں۔ لیکن شاید جیالے انہیں اپنی صفوں میں قبول نہ کریں۔ وہ ایک مخصوص موسمی کیفیت میں ”بغض معاویہ“ کے زیراثر کسی نامطلوب شخص کے حق میں طوفاں تو اٹھا سکتے ہیں لیکن اسے مستقلاً اپنے اندر جذب کرنا ان کے لئے قابل قبول نہ ہوگا۔ یوں لگتا ہے شیخ صاحب اس انجام سے دوچار ہوچکے ہیں، جو فرزندان وقت کا مقدر ہوتا ہے۔
اور برادرم افتخار عارف کے کچھ شعر، ایک افسردہ دل حویلی کے آزردہ خاطر مکین کے لئے۔
شام ہوئی اور سورج رستہ بھول گیا
کیسے ہنستے بستے گھر خاموش ہوئے
بولتی آنکھیں چپ دریا میں ڈوب گئیں
شہر کے سارے تہمت گر خاموش ہوئے
کیسی کیسی تصویروں کے رنگ اڑے
کیسے کیسے صورت گر خاموش ہوئے
کھیل تماشا بربادی پر ختم ہوا
ہنسی اڑا کر بازی گر خاموش ہوئے
کچھ دیواریں بارش میں بیٹھ گئیں
بیتی رُت کے سب منظر خاموش ہوئے
ابھی گیا ہے کوئی مگر یوں لگتا ہے
جیسے صدیاں بیتیں گھر خاموش ہوئے
(جاری ہے)
 
 
بینر
بینر

پول

کیا پاکستانی ٹیم میچ فکسنگ میں ملوث ہو سکتی ہے؟