بینر
 
بینر
یہ معافیاں…! چھاپیے ای میل
اتوار, 07 فروری 2010 12:15
عرفان صدیقی
عافیہ پہ ٹوٹتے ستم نے ایک پرانے زخم کے بخیے بھی ادھیڑ ڈالے ہیں۔ مجھے جامعہ حفصہ کی شہید بچیاں شدت سے یاد آرہی ہیں اور ایک رکنی جماعت کے سربراہ شیخ رشید احمد نے ادھڑے ہوئے زخم پر مٹھی بھر نمک چھڑک دیا ہے۔ ووٹوں کی جستجو میں دو باریش شخصیات کو اپنے دائیں بائیں بٹھا کر انہو ں نے فرمایا ”علماء میرے ساتھ ہیں۔میں نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے مقتولین پر معافی مانگ لی ہے“۔
ایک جملے نے حساب بے باق اور کھاتہ صاف کردیا۔ کس قدر آسان نسخہ ‘ کس قدر سہل مداوا ہے۔ جب تک بس چلے آمر وقت کے دست ستمگر پر بوسے دیتے رہو‘ اس کے قدموں تلے آنکھیں بچھاتے رہو‘ اس کی چاپلوسی کو فلسفہ سیاست کی معراج قرار دیتے رہو‘ اس کی جمہوریت کشی کو دلائل کی قبائیں پہناتی رہو‘ اس کی غارت گری کو تقاضائے وقت قرار دیتے رہو‘ اس کی رعونت کی دہلیز پر سجدے کرتے رہو‘ اس کی خونخواری کو جوانمردی سے تعبیر کرتے رہو‘ اس کی درندگی کو قومی مفادکا جامہ زیبا پہناتے رہو‘ اس کی وطن فروشی کو حکمت کہتے رہو‘ اس کی دختر فروشی کو مصلحت کشی قرار دیتے رہو‘ اس کی بردہ فروشی پہ تالیاں پیٹتے رہو‘ اس کی سرکشی کے سامنے کورنش بجالاتے رہو‘ اس کی آئین شکنی کے قصیدے پڑھتے رہو‘ اس کے گھناونے کردار کی ترجمانی کو اعزاز سمجھتے رہو‘ اس کے دسترخوان کی ہڈیاں چچوڑتے رہو اور جب مکافات عمل ڈکٹیٹر کو گرفت میں لے لے ‘ مکے لہرانے والے کے بازو خزاں رسیدہ شاخوں کی طرح ناتواں ہوجائیں‘ اس کے سوکھے بالوں میں جوئیں رینگنے لگیں‘ اس کے دانت جھڑ جائیں اس کے پنجے کوڑھ کا شکار ہوکر گلنے سڑنے لگیں اور اس کا دستر خوان لپٹنے لگے تو گھر لوٹ آو او رکہو ”یہ سب اس کا کیا دھرا تھا“ کوئی دن گوشہ نشینی میں گزارو۔جب یقین ہوجائے کہ غم ہائے روز گار کی چکی میں پستے لوگ بھول بھلا گئے ہوں گے تو ایک بار پھر خلق خدا کی نمائندگی کا تاج سرپہ سجانے کی آرزو میں یہ کہتے ہوئے میدان میں کود پڑو کہ ”میں نے معافی مانگ لی ہے“۔
عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت نے مجرم قرار دیا تو جناب مشاہد حسین سید بھی نعرہ زن ہوئے۔ انہوں نے حکومت پر طعن کیا۔ اصحاب ”ق“ کے عمائدین نے بھی بھاشن دیا‘ شیخ رشید احمد نے بھی لب کشائی کی۔ آنکھ کی حیا کا یہ عالم ہے کہ جس شخص نے عافیہ کو امریکی درندوں کے ہاتھ بیچا‘ یہ سب اس شخص کی غلامی پہ ناز کرتے رہے۔ عافیہ 31 مارچ 2003ء کو اٹھائی گئی تو یہ سب مشرف کے دست بستہ درباری بنے ہوئے تھے۔ ساڑھے چار برس تک وہ جانے کن عقوبت خانوں میں تڑپتی رہی اور یہ سب اقتدار کی عشرتیں سمیٹتے رہے۔ آج یہ عوام کو احساس دلارہے ہیں کہ عافیہ کے غم نے انہیں نڈھال کردیا ہے۔ کیا فریب کی کوئی حد نہیں ہوتی؟ شیخ رشید احمد نے پریس کانفرنس کی اور فرمایا ”میں نے لال مسجد کے واقعہ پر بھی معافی مانگ لی تھی“۔ کیا معافی کا لفظ نوک زباں پہ لاتے ہی سارا ماضی دھل جاتا ہے؟ یہ کوئی معمولی سانحہ نہ تھا۔ انگریز ایک صدی تک یہاں قابض رہا۔ اس کے سامراجی مظالم کی درندہ صفت کہانیاں تاریخ کے اوراق پر جابجا بکھری پڑی ہیں۔ امریکہ گزشتہ نوبرس سے درندگی کا ایک شرمناک باب رقم کررہا ہے۔ بھارت نصف صدی سے مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔ لیکن جو کچھ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں ہوا‘ اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔یہ سانحہ کسی لادین یا غیر مسلم ملک میں نہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہوا۔ اس ملک میں ہوا جو لاالہ الاالل? ‘ کے نعرے پر تخلیق ہوا۔ اسلام کی بیٹیوں پر یہ ستم اس شہر میں ٹوٹا جس کا نام ”اسلام آباد“ ہے۔ یہ غارت گری الل? کے گھر اور اس سے منسلکہ ‘ بچیوں کے دینی مدرسے میں ہوئی۔ قرآن کی تلاوت کرتی معصوم بیٹیاں فاسفورس کے بموں کا رزق ہوگئیں۔ ا±ن کی گلی سڑی ہڈیاں گندے نالوں میں بہادی گئیں۔ کیا دلوں کو چیر دینے والا سانحہ تھا کہ اڑھائی سال بعد بھی خون کے آنسو رلادیتا ہے۔
اور موصوف کس سادگی سے فرماتے ہیں۔”میں نے معافی مانگ لی تھی“۔ 4 جولائی 2007ء کو لال مسجد اور جامعہ حفصہ پہ یلغار ہوئی‘ پانی بند‘ خوراک بند‘ بجلی بند‘ پانچ دن وہ بھوک اور پیاس سے تڑپتی رہیں۔ 9 جولائی کو آپریشن ہوا اور پاکباز روحیں آسمانوں کو پرواز کرگئیں۔ جناب شیخ اس وقت کہاں تھے؟ کیا کررہے تھے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ قیامت کی اس گھڑی میں بھی ان کے لئے ”سیدمشرف“ کی چاکری ‘ سید الابرار کی خوشنودی سے زیادہ عزیز رہی ؟ قبیلہ”ق“ کا کوئی ایک فرد بھی مستعفی نہیں ہوا۔ آج یہی قبیلہ شیخ صاحب کی پشت پہ کھڑا ان کی فتح کے لئے نعرہ زن ہے۔ مشرف کے عہدِ نابکار میں کیا کیا نہیں ہوا۔ جمہوریت قتل ہوئی‘ آئین مسخ ہوا ‘ پورا ملک امریکہ کے قدموں میں ڈھیر کردیا گیا‘ ڈرون حملوں کا اجازت نامہ دیا گیا‘ دینی مدارس کو نکیل ڈالی گئی‘ علماءکی قبائیں نوچی گئیں‘ اسلام کا مضحکہ اڑایا گیا‘ بگٹی کو قتل کیا گیا‘ بھارت کی غلامی اختیار کی گئی‘ جہاد کشمیر کا گلاگھونٹا گیا‘ عافیہ صدیقی کو امریکی گرگوں کے حوالے کیا گیا‘ سینکڑوں افراد کو بیچ دیا گیا‘ ڈاکٹر عبدالقدیر کو نشانہِ تضحیک بنایا گیا‘ ججوں کو بچوں سمیت قید کیاگیا‘ قبائلی علاقوں کو میدان جنگ بنایا گیا‘ دینی مدرسے کے نوجوان طلبہ پر بمباری کرائی گئی۔ یہ سب کچھ ہوتا رہا لیکن شیخ صاحب اور ان کا قبیلہ ہاتھ باندھے‘ گردن جھکائے مشرف کی چوکھٹ پرکھڑے رہے۔ شیخ صاحب سانحہ لال مسجد کے پانچ ماہ سات دن بعد تک وزارت کے مزے لوٹتے اور درندگی کی وکالت کرتے رہے‘ یہاں تک کہ 16 دسمبر 2007ءکو حکومت ختم ہوگئی اور وہ گھر آگئے۔ انہوں نے فروری 2008ءکا الیکشن بھی ”ق“ کے رہنما اور مشرف کے ہمنوا کے طور پر لڑا۔ پنڈی کے لوگوں نے عبرت کا سبق یاد دلایا تو شیخ صاحب بولے۔ ”مجھے لال مسجد لڑ گئی“ ان کا یہ جملہ گواہی دیتا ہے کہ ان کے دل میں لال مسجد کا کتنا احترام اور شہداءکا کیا درجہ و مقام ہے۔
الل غفور و رحیم ہے۔ وہ جسے چاہے معاف کردے لیکن وہ دلوں کا بھید بھی جانتا ہے۔نیتوں کے احوال سے بھی باخبر ہے۔وہ معافی کے ایسے اعلانات کے معنی و مفہوم کی تمام پرتوں سے واقف ہے۔ 
عافیہ کے دکھ نے جامعہ حفصہ کی بچیوں کا غم بھی تازہ کردیا ہے۔ الل? کے خزانے بے کراں ہیں لیکن میرا دل گواہی دیتا ہے کہ عافیہ کو بیچنے اور جامعہ حفصہ کی بچیوں کو قتل کرنے والا قبیلہ معافی کا استحقاق کھوبیٹھا ہے۔ا س قبیلے کے سردار کو وطن کی مٹی سے کوسوں دور کردیاگیا ہے اور اس کے چیلے کسی میدان میں سرخرو نہ ہوں گے۔ ان خونیوں کو معاف کردینے والے بھی الل? کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گے۔ وہ دن بھی کیا دن ہوگا جب جامعہ حفصہ کی شہید بیٹیاں نورانی پوشاکیں پہنے میرے حضور کے جلو میں کھڑی ہوں گی اور ان کی انگلیاں قاتل قبیلے کی طرف اٹھی ہوں گی اور سیاہ کار ٹولہ خوف سے کانپ رہا ہوگا اور کسی کی زبان کو یہ کہنے کا یارا نہ ہوگا کہ 
 میں نے معافی مانگ لی تھی“۔
بشکریہ جنگ 
 
 
بینر
بینر

پول

کیا پاکستانی ٹیم میچ فکسنگ میں ملوث ہو سکتی ہے؟