تحریر محمد وسیم عباس
یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
یو م یکجہتی کشمیر کی بنا پر اگرچہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم تھاتاہم سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ 3بج کر 2منٹ پر میں نے شارع فیصل فائن ہاﺅس پر واقع بارکلے بینک کے اے ٹی ایم سے پیسے نکالے اور پریس کلب جانے کے لیے ایک منی بس پر بیٹھ گیا ۔ابھی نرسری اسٹاپ پر پہنچا ہی تھا کہ آگے کچھ فاصلے پر اچانک دھواں بلند ہوتا دکھائی دیا اور بگدڑ مچ گی ۔بس رک گی دیگر مسافروں کے ساتھ میں بھی اتر آیا اور جائے وقوعہ کی جانب جانے لگا۔جہاں ایمبولنسوں کے سائرنوں کے ساتھ لوگوں کی چیخیں اور آہیں بلند ہو رہی تھیں اور ہر جانب خوف وہراس کی فضا قائم تھی ۔معلوم ہوا کہ بس میں دھماکہ ہو گیا ہے ابھی مزید تفصیلات حاصل کر رہاتھا کہ ہمارے چیف رپورٹر عبدالجبار ناصر نے فون کر کے فوراً دفتر آنے کا کہا جس کی بنا پر وہاں زیادہ دیر نہ رک سکا ۔
کراچی میں 28دسمبر کے بعد شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جس دن کوئی بے گناہ موت کے گھاٹ نہ اتارا گیاہو ۔10محرم الحرام کو بولٹن مارکیٹ سے شروع ہونے والا سفاکیت کا سلسلہ شارع فیصل سے ہوتاہوا جناح ہسپتال تک پہنچ چکا ہے ۔گزشتہ چالیس دنوں میں مجوعی طور پر بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں 100سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جبکہ 200سے زائد زخمی ہیں ۔150افراد کا مطلب ،ایک سو پچاس خاندان ہیں جو حالات کے رحم وکرم پر رہتے ہوئے ہر دن جیں گے اور ہر دن مریں گے۔
جمعہ کی سہ پہر کو کراچی میں ہونے والے بم دھماکے ایسے موقع پر ہوئے ہیں کہ جب پورا شہر رینجرز کے حوالے تھا۔جگہ جگہ رینجرز کی گاڑیاں کھڑی تھیں جبکہ متعد د تھانوں میں رینجرز کا عمل درآمد تھا۔سانحہ بولٹن مارکیٹ کے سانحے نے یقیناً حسا س اداروں کو تاحال چین سے بیٹھنے نہ دیا تھا اور کراچی کی موجودہ صورتحال بھی کسی قسم کی غفلت کے نتیجے میں ہونے والے نقصان برداشت کرنے کی متحمل نہیں تھی۔ 10محرم الحرام کو ماتمی جلوس میں ہونے والا بم دھماکہ آ ج کے دن سیکورٹی ایجنسیوں کو ہوشیار رکھنے کے لیے کافی تھا۔اس کے باوجود پہ در پہ ہونے والے دو بم دھماکے ہمارے حساس اداروں کی ”عمدہ کارکردگی“کا منہ بولتا ثبوت ہے جبکہ جائے وقوع سے پولیس کی بھاگتی گاڑی ہمارے محافظوںکی ”شجاعت وبہادری “کی لازوال داستان رقم کر رہی تھی۔
28دسمبر کو ہونے والے بم دھماکہ کے زخم ابھی ہرے تھے اور تاحال اس سانحے کے مرتکب افراد کو گرفتار نہیں کیا جا سکا تھاکہ ان دو دھماکوں میں مزید 25جانیں ضائع ہو گئیں ۔جمعہ کو ہونے والے دونوں بم دھماکوں میں وہی مواد استعمال کیا گیا جو سانحہ عاشورہ میں استعمال ہوا تھا اور حساس اداروں کی رپورٹ اور ابتدائی تحقیقات بھی ان دھماکوں کو 40دن قبل ہونے والے دھماکے کی کڑی بتاتی ہیں ۔سانحہ عاشورہ کے بعد سب کچھ اتنا واضح ہوگیا تھا کہ آنکھیں بند کر کے اس اندوناک واقع کے مرتکب افراد کو پکڑا جا سکتا تھا۔سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل ہونے والی ویڈیو زمیں تخریب کاروں کے چہرے تک واضح تھے اس کے باوجود تاحا ل ان کی عدم گرفتاری لمحہ فکریہ ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کی جانب سے حکمرانوں کے لیے ایک بہت بڑا سوال ہے کہ ہمیں جانتے بوجھتے قاتلوں کے حوالے کیوں کیا جا رہا ہے ۔ہم کس کے ہاتھوں اپنے پیاروں کا خون تلاش کریں کس کو مجرم ٹھہرائیں ۔اگر اس وقت دہشت گردوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جاتی تو آج یہ سانحہ رونما نہ ہوتا۔
آج ایک مرتبہ پھر سفاکیت کا عفریت کراچی کی سڑکوں پر ننگاناچ رہا ہے اور شہر ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کی لپیٹ میںآ گیا ہے ۔ان دونوں دھماکوں میں ایک خاص مکتب فکر کو خاص مواقع پر دہشت گردی کانشانہ بنا کر شیعہ سنی فسا د برپا کرنے کی کوشش کی گی ہے لیکن حالات اس بات کے شاہد ہیں کہ ان دونوں واقعات میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔ملک میں فی الوقت مکمل مذہبی ہم آہنگی پائی جارہی ہے ۔دہشت گرد ہر طبقے کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔دہشت گردی کے یہ واقعات کراچی کا امن تبا ہ کرنے کی سازش ہے ۔اس لیے کہ کراچی کے متاثر ہونے سے پورا ملک متاثر ہوتاہے ۔کراچی معاشی طور پر پورے پاکستان کو کنڑول کررہا ہے۔اگر ہمارے سیکیورٹی ادارے مخلص ہو کر ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کے لیے کمر کس لیں تو وطن عزیز ان دھماکوں ،آہوں اور سسکیوں سے پاک ہوجائے گا لیکن ہو گاکیا کہ حقائق سے نظریں چراتے ہوئے اور اپنے سر سے ذمہ داری ختم کرنے کے لیے اسے بھی طالبان کے کھاتے میںڈال دیا جائے گا اور اللہ اللہ خیر صلا ،جیساسانحہ عاشورہ کے موقع پر کیا گیا تھا۔
دھماکوںکے بعد حسب روایت سیاسی جماعتوں اور حکمران طبقے نے افسوس اور مذمت کے بیانات جاری کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور حکومت کی جانب سے دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کے لیے 1لاکھ اور مرنے والوں کے لواحقین کے لیے 5لاکھ روپے معاوضے کا اعلان بھی کردیا ہے لیکن کیا افسوس اور مذمت کے بیانات جاری کر دینے سے ان کی ذمہ داریاں پوری ہوجاتی ہیں ۔
ا پنے فرائض کی بجا آوری میں غفلت اورا پنی ذمہ داریوں میں کوتاہی کے نقص کو دور کر دینے کے بجائے ہر بار صرف معاوضہ کا اعلان اور چند مذمتی بیانات جاری کر دینا پوری قوم کے ساتھ مذاق ہے ۔کیا پانچ لاکھ روپے کسی یتیم ہونے والے بچے کو اس کا باپ واپس دے سکتے ہیں ، بیوہ ہونے والی کو اس کا سہاگ لوٹا سکتے ہیں یاکسی ماں کے لخت جگرکی جگہ لے سکتے ہیں ؟خدرا اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔آخر کب تک پاکستانی عوام سڑکوں پر ایڑیا ں رگڑ رگڑ کر مرتے رہیں گے ۔