بینر
 
بینر
” بھاری بھرکم آپا بشریٰ کا جنازہ“ (حافظ مظفر محسن) چھاپیے ای میل
منگل, 15 دسمبر 2009 13:47
        اظہار شاہ اپنے کندھے کو سہلا رہا تھا۔۔۔ شاہ جی خیر تو ہے سردیوں کے شروع میں آپ کے کندھے سے کندھا ملانا ذرا مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔یہ کیسی درد ہے اور کب سے ہے؟!
        پانچ سال سے میں اس درد میں مبتلا ہوں۔۔۔میں اس ”واقعہ“ سے پہلے باقاعدہ ”جم“ جایا کرتا تھا۔۔۔۔ اب ”جم“ کے آگے سے ایسے گزرتا ہوں جیسے ہمارے ڈیفالٹر سیاستدان ”بینک“ کے سامنے سے گزرتے ہیں۔۔۔ حالانکہ ہمارے بینک اربوں ڈالر بغیر سیکورٹی لوگوں کو دے کر آنکھیں اور کمپیوٹر بند کر کے سو جاتے ہیں ”ہمیش“ کی طرح اور جب جہاز ڈوبنے لگتا ہے۔۔۔ پھر ”لنگور“ والی پھرتیاں ہوتی ہیں اور ہمارے بینکوں والے۔
        اچانک آپا بشریٰ کے سینے میں تکلیف ہوئی۔۔۔وہ ہنستی مسکراتی ہمارے لطیفوں کی اصلاح کرتی عورت۔۔ ”میری کمیٹی یکم جون کو نکلنی ہے۔۔۔۔ اے اللہ مجھے وہ کمیٹی تو لے لینے دے“ آخری دو فقرے بول کر ٹھنڈی ہو گئی 29 مئی کی شام۔ ضدی عورت کی اولاد بھی ضدی ہم نے اس کے بیٹے سے کہا کہ ”محلے کے قبرستان میں دفن کر دیتے ہیں“۔۔”شاہ تم نے ہماری ماں کو لاوارث سمجھا ہے ہمارا اپنا ”احاطہ ہے“ بدروحوں کے قبرستان میں دس مرلے کا ہم ماں کو وہاں دفن کریں گے۔۔۔کیا ہے جو دو میل میت اٹھا کر لے جانی پڑے گی ہم ماں کو وہاں دفن کریں گے۔۔۔ ”کیا ہے جو دو میل میت اٹھا کر لے جانی پڑے گی“۔ میں پریشان ہو گیا۔
        چالیس لوگ روانہ ہوئے جنازے کے ساتھ۔۔۔ سفر لمبا تھا اور دھوپ بے انتہائ۔۔۔ میں نے بھی ہمت کی آپا بشریٰ کے جنازے کو کندھا دیا ۔۔ میں سمجھ گیا آپا بشریٰ کے بیٹے نے اک بار ہمت کی۔۔۔ ماں کو کندھا دیا اور پھر وہ پیچھے پیچھے چلنے لگا اس نے دوبارہ جنازے کو کندھا دینے کی ہمت نہ کی۔
        میںنے چونکہ ہمت کی تھی۔۔۔ سو اب میں منتظر تھا کہ کوئی دوسرا بھی ”ہمت“ کرے۔ میں چوری چوری ادھر ادھر دیکھ رہا تھا مگر کوئی اب ہمت کرنے والا نہ تھا۔۔۔ ”پانی“ میرے منہ سے نکلا۔۔۔ پیچھے سے اک دوست کی آواز آئی۔۔ ایسے کاموں میں پانی کا مطالبہ نہیں کرتے۔۔۔ صبر فرمائیں۔۔ کل آپ کی بھی باری آنے والی ہے اک اور صاحب آہستہ سے بولے ۔۔۔ میرے پاس آئے ”شاہ صاحب۔۔۔حضور ۔۔۔ خالی پانی ہی نہیں۔۔۔ جب آپا بشریٰ کو دفن کر کے واپس گھر جائیں گے تو آپ کو مرغ قورمہ اور تازہ تازہ نان بھی کھلائے جائیں گے۔۔۔ پانی بھی وافر ہو گا“۔
”بس ذرا ہمت کرکے۔۔۔صرف ڈیڑھ میل کا سفر ہے مزید“
        ”ڈیڑھ میل اور معصوم کندھا“۔۔۔ یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ میں کندھا بدل لوں۔۔۔ دائیں سے بائیں کر لوں یعنی۔۔ آواز دوں کہ بھائی ذرا دو منٹ کے لئے پکڑنا۔۔۔ میں بائیں کندھے کو خدمات سرانجام دینے کا حکم دے لوں۔۔ ڈیڑھ پسلی کا اظہار شاہ۔۔ سمجھو آج پھنس گیا۔۔۔ میںنے غور کیا کہ شاید میں بے ہوش ہونے کو ہوں۔ یکدم خیال آیا کہ آپا بشریٰ جب زندہ تھیں تو اتنا زیادموٹاپا تو نہ تھا کہ انسان چار انسان مل کر اٹھا رہے ہیں۔۔۔ اور ”ہائے ہائے“ کر رہے ہیں ”اوٹی اوٹی“ نکل رہی ہے۔۔ آپا بشریٰ کی محلے میں آٹھ دس گھروں سے دشمنی تو تھی لیکن اتنا ظالم تو کوئی نہیں ہو سکتا کہ اس نے جنازے والی چارپائی پر دس بیس اینٹیں رکھ دی ہوں۔۔۔ میں نے بہت سے جنازوں کو کندھے دیئے ہیں۔۔۔ اول تو لوگ باہمی تعاون کے حوالے سے جلدی جلدی باری بدلتے ہیں اور اگر کہیں ٹائم پیریڈ تھوڑا لمبا بھی ہو جائے تو بوجھ اس قدر نہیں ہوتا کہ بندہ آنکھوں میں اندھیرا محسوس کرنے لگے۔ اور دل کی چلنے پھرنے کی رفتار ڈبل سے بھی زیادہ ہو جائے۔
        یکدم مجھے یاد آیا کہ آپا بشریٰ کی چار کی چار بہویں اس سے بہت زیادہ ناراض تھیں اور ان کی خواہش تھی بلکہ وہ آس لگائے بیٹھیں تھیں کہ آپا بشریٰ کو اللہ اٹھائے وہ باری باری اس کے خوبصورت ”پلنگ“ پر بیٹھ کر لطف اندوز ہو سکیں۔۔ ”بہووں پر ظلم“ ڈھانا ہر ساس کے بنیادی حقوق میں شامل ہے۔ وہ ساس ہی کیا جو بہو کو سکون کی زندگی گزارنے پر ”مجبور“ کرے۔
        ”کلمہ شہادت“ آواز آئی راستے میں چلتے ایک نیک دل مسافر نے ثواب کے لئے صدا بلند کی اور مجھے مشکل سے نکالا میرے دل سے دعائیں نکلیں۔۔۔ سب سے پہلی دعا ہی یہ نکلی کہ ”اے میرے خدا اس نیک دل انسان نے میری مدد کی توبھی اس کی فوراً مدد فرما کہ کوئی اور کندھا دینے کی جسارت کرے ”آمین“ یہ خدا ہی جانتا ہے کہ اس ”نیک دل مسافر“ کے ساتھ کی بیتی ہو گی۔ بہر حال میں آج تک اس کا شکرگزار ہوں۔
        وہ دن اور آج کا دن۔۔۔میرے اس کندھے سے درد نہیں گئی۔۔۔ میرے بعد والوں پہ کیا بیتی۔۔۔؟! یہ اللہ ہی جانتا ہے۔
        شاہ صاحب کا تفصیلی بیان سن کر میں نے ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ یکدم میری نظر اپنے آپے سے باہر آئے ہوئے پیٹ پر پڑی میں نے عہد کیا کہ اب میں گن کے روٹیاں کھایا کروں گا۔۔۔ کہ پیٹ میں خوراک کسی حساب سے ڈالنا چاہئے پھر مزید خیال آیا کہ کل کو بکرا عید ہے اور بکرا عید کے حوالے سے پہلے ہی بہت سے قصے مشہور ہیں۔۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہوتی ہے کہ غصے میں۔۔جلدی میں۔۔۔ لالچ کی عینک لگا کر کھانے والوں کے حلق میں ہڈیاں پھنس جاتی ہیں۔۔۔ اور پھر ڈاکٹر بے چارے ایسے جلد بازوں کی مدد کو تیار ہوتے ہیں۔۔ گلے میں اٹکی ہڈیاں اور پھنسے کانٹے نکالنے کے لئے بکرا عید پر ہر ہسپتال میں علیحدہ شعبہ قائم ہونا چاہئے۔
        شیخ سجاد حسین ہمارے دوست ہیں جو کسی شادی بیاہ میں مرگ پر یا بکرا عید کے فنکشن پر جائیں تو وہ روٹی کو ہاتھ نہیں لگاتے صرف بوٹیاں نوچتے ہیں وہ کہتے ہیں”آٹا“ کم خرچ کرنا چاہئے۔۔۔ آٹے کی قلت ہو جاتی ہے۔۔۔ اس لئے۔۔۔ بس انسان بوٹیاں کھائے۔۔ گوشت کی تو کبھی قلت نہیں ہوئی بس دن بدن مہنگا ہوتا چلا جا رہا ہے۔۔۔ اور عید بکرا عید پر ہم کونسا بھلا غریبوں کو دیتے ہیں ہم نے بھی تو فیریزر ہی بھرنے ہوتے ہیں۔۔۔ جو ایک ڈیڑھ ماہ تک تو خوب گھر والوں کو فائدہ دیتے ہیں ویسے اتنا گوشت بکرا، چھترا، دنبہ، گائے، اونٹ سب کھاتے بھی آنکھیں نہیں بھرتیں۔۔۔؟! گوشت خوری میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔۔؟!
        اظہار شاہ کی زبانی آپا بشریٰ کے جنازے اور اس جنازے کے ”متاثرین“ کی بابت سن کے میں نے عہد کیا ہے کہ اب کے میں اس بکرا عید پر صرف دوپہر کو آدھ گھنٹہ ہی کھانا کھاﺅں گا۔۔ اس سے پہلے میں ہر بکرا عید کو دوپہر اور شام کو ایک ڈیڑھ گھنٹہ بیٹھ کے لگا تار کھاتا تھا۔۔۔ جس پر میں شرمندہ ہوں اور دل ہی دل میں پریشان بھی آپ بھی اس بکرا عید پر کھانا شروع کرنے سے پہلے آپا بشریٰ کے جنازے کا آنکھوں دیکھا حال یاد کر لیں اور ”متاثرین“ کی حالت زار پر غور۔۔۔ اللہ پاک اس بکرا عید پر بھی ہم سب کو سرخرو فرمائے ”آمین“۔ میری تازہ تازہ نظم ملاحظہ کریں۔۔

میں سمجھا میں خوش قسمت ہوں 
عید پر قربان ہو جاوں گا
ہائے رے قسمت شیخ ہے مالک
تڑپوں بھوکا کیا کھاوں گا
خوش بکرے جب گلی سے گزرے
چیخوں گا میںچلاوں گا
مار نہ دے مجھے عید سے پہلے
کیا سے کیا میں کہلاوں گا
چارہ مہنگا۔۔۔باسی روٹی
شیخ ہوں بکرا کھا جاوں گا
جیسے بھوکا شیخ نے رکھا
جنت میں سیدھا جاوں گا
شیخ کی کھنڈی چھری سے محسن
عید پر قربان ہو جاﺅں گا
 
 
بینر
بینر

پول

کیا پاکستانی ٹیم میچ فکسنگ میں ملوث ہو سکتی ہے؟