خرابی
  • فیڈ ڈیٹا اٹھانے میں خرابی
جامعہ سرگودھا میں 600طالبات کےلئے نیا ہاسٹل جلد تعمیر کیا جائے گا،ارفع کریم کے کارنامے صدیوں یا د رکھے جائیں گے،قوم کو اس بیٹی پر فخر ہے ،تعزیتی ریفرنس میں شرکاءکا اظہار خیال چھاپیے ای میل
بدھ, 18 جنوری 2012 18:48
سرگودھا(پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام)سرگودھا یونیورسٹی کی کمیٹی روم میں وائس چانسلر پرفیسر ڈاکٹر اکرم چوہدری کی زیرصدارت خصوصی اجلاس ہوا۔اجلاس میں یونیورسٹی میں نظم وضبط،بروقت امتحان اور نتائج کی تیاری مختلف کالجز سے الحاق اور غیر نصابی سرگرمیوں کے شیڈول اور میڈیکل سے متعلقہ امور زیر بحث آئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری نے کہا کہ سرگودھا یونیورسٹی آج اپنی تعلیمی و تحقیقی کارناموں کے ساتھ ڈسپلن کے حوالے سے پورے پاکستان میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔جس کا سب سے بڑا سبب ادارے میں غیر سیاسی ماحول ہے۔انہوں نے کہا کی تمام طلباو طالبات کو یونیورسٹی کارڈ جاری کر دیے گئے ہیں۔جس کے بغیر ادارے میں کسی بھی طالب علم کو داخلہ کی اجازت نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کا خاص امتیاز اس کی خود انحصاری کی حکمت عملی ہے اور مستقبل میں بھی ایسے پروگرام ترتیب دیے جائیں گے ۔نیز میرٹ کی بنیاد پر دوسرے شہروں میں بھی کیمپس قائم کئے جائیں گے۔کالجز کا الحاق کرنے کے حوالے سے وائس چانسلر نے کہا کہ اس سلسلے میں میرٹ کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا یونیورسٹی میں سٹوڈنٹس ٹیچنگ کونسل کاقیام عمل پذیر ہے 600طالبات کی گنجائش پر مشتمل نیا ہاسٹل جلد تعمیر کیا جائے گا۔نیز شعبہ قانون اور سابقہ جوہر بلاک کے ساتھ جئے اکیڈمک بلاک بھی تعمیر کئے جائیں گے۔اجلاس میں رجسٹرار سرگودھا یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شوکت علی نے تمام حاضرین کو ہیلتھ انشورنس کے بارے میں آگاہ کیا۔اس موقع پر یونیورسٹی ڈنیز،انتظامی افسران اور تمام شعبہ جات کے صدور بھی موجود تھے۔علاوہ ازیں ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری نے ارفع کریم رندھاوا کی وفات کے حوالے سے منعقد تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ارفع کریم نے کم عمری میں جو کارنامے انجام دئیے وہ صدیوں یا د رکھے جائیں گے۔قوم کو اس بیٹی پر فخر ہے اور اس کی یاد ہمیشہ دلوں میں تازہ رہے گی۔انہوں مزید کہا کہ ارفع کریم کی سرگودھا یونیورسٹی آمد اور اساتذہ و طلباءسے خطاب ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اس موقع پر ارفع کریم کے ایصال ثواب کے لیے وائس چانسلر آفس میں خصوصی دعا بھی کی گئی۔
 
 
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر

کراچی سے