خرابی
  • فیڈ ڈیٹا اٹھانے میں خرابی
کے ایم سی کے تحت قائم 628 اسکولوں کے 5500 سے زائد اساتذہ تنخواہوں سے محروم چھاپیے ای میل
پیر, 02 جنوری 2012 13:36
کراچی(پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام)کے ایم سی کے تحت قائم 628 اسکولوں کے 5500 سے زائد اساتذہ اور غیرتدریسی ملازمین گزشتہ دو ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں جس کی وجہ سے وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کے ایم سی کے تحت قائم اسکول جو پہلے شہری حکومت کے محکمہ تعلیم لوکل باڈیز ونگ کے تحت تھے، ان میں سابق ڈی او منصور مرزا اور سابق ڈی او خرم عارف علی کے دور میں 1250 سے زائد اساتذہ اور غیرتدریسی عملے کی بھرتیاں کی گئیں اور ان جعلی بھرتیوں کا انکشاف کے ایم سی کی پریس ریلیز میں بھی کیا گیا تھا جس کے بعد خرم عارف علی کو ہٹاکر ایڈیشنل ڈائریکٹر محمدعبدالخالق کو ڈائریکٹر تعینات کردیا گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ محمدعبدالخالق کو خلاف ضابطہ ترقی دینے کے معاملے کی تحقیقات اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کررہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ چند سال قبل لیاقت آباد ٹاوٴن میں گریڈ 14 کے سینٹرل انسپکٹر تھے، پھر انہیں 16 گریڈ میں ترقی دی گئی اور بعد ازاں 17 گریڈ میں کردیا گیا۔ واضح رہے کہ قواعد کے مطابق ڈائریکٹر اسکولز کے لیے ٹیچنگ کا تجربہ ہونے کے ساتھ بی ایڈ ہونا بھی ضروری ہے اور گزشتہ کئی برس سے اس اسامی پر دوسرے کیڈر کے افراد تعینات ہیں۔ذرائع کے مطابق تنخواہوں کے بل سے جعلی افراد کے نام نکلوائے جانے کی وجہ سے بل اب تک پاس نہیں ہوسکے۔ دریں اثناء ڈائریکٹر ایجوکیشن کے ایم سی عبد الخالق نے کہا کہ جعلی افراد کی اسکروٹنی کی وجہ سے تنخواہوں میں تاخیر ہوئی ہے دو تین دن میں تنخواہیں مل جائیں گی جبکہ آئندہ ماہ سے تنخواہیں باقاعدگی سے جاری ہوں گی انہوں نے کہا کہ 1997 میں وہ سینٹری انسپکٹر ضرور تھے مگر بعد میں تمام ترقیاں قواعد کے مطابق حاصل کیں مگر کچھ لوگ چند سال سے ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور ان کا ترقی کا معاملہ عدالت تک گیا ہے اور وہاں وہ سرخرو ہوئے ہیں۔
 
 
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر

کراچی سے