|
برطانیہ میں پاکستانی طلبہ کی تعداد میں غیر یورپی ملکوں کے مقابلے میں54 فیصد زیادہ،امریکا میں یہ تعداد 65 فیصد کم ہوئی ہے |
|
|
|
پیر, 26 دسمبر 2011 13:29 |
کراچی(پاک میڈیا اپ ڈیٹس تعلیمی صفحہ )تعلیمی لحاظ سے پسماندہ اور نوجوانوں کی اکثریت کے حوالے سے پہچانے جانے والے ملک پاکستان میں گزشتہ 10 برس کے دوران ہر سطح کے تعلیمی اداروں میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔تعلیمی سال 2001 سے سال 2011 تک پاکستان میں سیکنڈری سطح پر لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کی تعداد میں 600 اور یونیورسٹیوں میں 400 فیصدسے زائد اضافہ ہوا جب کہ ملک بھر میں موجود پروفیشنل کالجوں کے علاوہ ہر طرح کے تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کی تعداد نمایاں سطح پر بڑھی۔میڈیا کو دستیاب مختلف تعلیمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں پرائمری کی سطح پر لڑکیوں کی تعداد میں 10 سالوں میں 78 فیصد اضافہ ہوا جب کہ اسی عرصہ میں لڑکوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ فیصد تک کم ہوگئی، مڈل اسکولوں میں لڑکیوں کی تعداد میں 57 فیصد جب کہ لڑکوں کی تعداد میں 36 فیصد اضافہ ہوا۔ ہائی اسکول کی سطح پر لڑکیوں کی تعداد میں 74 فیصد اور لڑکوں کی تعداد میں 65 فیصد اضافہ ہوا، سیکنڈری ہائی اسکول کی سطح پر 60 فیصد لڑکیاں اور 157 فیصد لڑکے بڑھے، آرٹس اینڈ سائنس کالجز میں لڑکیوں کی تعداد میں 77 فیصد جب کہ لڑکوں کی تعداد میں 154 فیصد اضافہ ہوا۔ پاکستان میں 10 برس کے دوران صرف پروفیشنل کالجزمیں لڑکیوں کی تعداد میں 49 فیصد کمی دیکھی گئی جب کہ پروفیشنل کالجز میں لڑکوں کی تعداد میں 253 فیصد اضافہ ہوا، یونیورسٹی کی سطح پر لڑکیوں کی تعداد میں 400 فیصد سے زائد جب کہ لڑکوں کی تعداد میں 235 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔رپورٹس کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران پرائمری کی سطح پر لڑکیوں کی تعداد 40 فیصدسے بڑھ کر 55 فیصد، مڈل میں 39 فیصد سے بڑھ کر 42 فیصد سے زائد، ہائی اسکول میں 40 فیصد سے بڑھ کر 42 فیصد، سیکنڈری اسکولوں میں 18 فیصد سے بڑھ کر 37 فیصد، آرٹس اینڈ سائنس کالجز میں 48 فیصد سے 60 فیصد جب کہ پروفیشنل کالجز میں لڑکیوں کی تعداد 49 فیصد سے کم ہوکر 13 فیصد تک پہنچ گئی۔ہائر ایجوکیشن اسٹیٹس کے مطابق پاکستانی طالب علموں کی بہت بڑی تعداد غیر ممالک میں زیر تعلیم ہے جس میں سب سے زیادہ پاکستانی طالب علم برطانیہ میں زیر تعلیم ہیں جب کہ امریکا، یورپ کے مختلف ممالک، جاپان، چائنہ، ملائیشیا اور بھارت سمیت عرب ممالک اور افریقی ممالک میں بھی پاکستانی طالب علم زیر تعلیم ہیں۔برٹش کونسل کے مطابق برطانیہ میں 6 غیر یورپی ممالک کے طالب علموں میں سب سے زائد پاکستانی طالب علم ہیں جن کی تعداد 54 فیصد ہے جب کہ امریکا میں نائن الیون کے حملوں کے بعد پاکستانی طالب علموں کی تعداد میں 65 فیصد کمی ہوئی ۔تعلیمی ماہروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی، بیروزگاری، بدامنی اوربے یقینی کے شکار اور تعلیمی لحاظ سے دنیا کے پیچھے والے ملکوں میں شمار کیے جانے والے ملک پاکستان میں تمام مسائل کے باوجود تعلیمی اداروں میں طالب علموں اور خصوصاً لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک نئے پاکستان کی تعمیرہے۔
|