خرابی
  • فیڈ ڈیٹا اٹھانے میں خرابی
9/11 طرز حملے کا خدشہ، برطانیہ میں مسلمان پائلٹ کو برطرف کر دیا گیا چھاپیے ای میل
پیر, 30 جنوری 2012 10:21
لندن(پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام )حاضر سروس برطانوی مسلمان پائلٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے اُس کے مذہب اور بھائی کے بنیاد پرست گروپ حزب التحریر کے ساتھ تعلق کی وجہ سے نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا، رپورٹنگ پابندیوں کی وجہ سے اس پائلٹ کا نام برطانوی میڈیا میں چھپنے والی متعدد رپورٹس میں شائع نہیں کیا گیا ہے، وہ برطانوی کمپنی کے خلاف نسل پرستی اور مذہبی تعصب پرستی پر دعویٰ دائر کر رہا ہے جبکہ اسے ایک مبینہ دہشت گردی کے منصوبے میں گرفتار کیا گیا ہے، ان رپورٹس کے مطابق پائلٹ ایئرکرافٹ کو تباہ کر کے خاصا نقصان پہنچانے کی پوزیشن میں تھا اور یہ قومی مفاد میں تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ کمرشل ایئرکرافٹ کو دوبارہ کبھی نہ اڑائے۔ اس کے بیرسٹر کی جانب سے اس سے اس بات کے پوچھے جانے پر پائلٹ نے جواب میں کہا کہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ میں طیاروں کو عمارتوں میں ٹکرانے جا رہا ہوں، پائلٹ نے اس دعویٰ کو بھرپور انداز سے رد کیا کہ وہ طیارہ اڑانے کے لیے نامناسب ہے کیوں کہ اس کے دو مشتبہ انتہا پسندوں سے رابطے تھے جو حریفانہ یا دہشت گردی کے اقدام کے طور پر جہاز کو استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، مذکورہ دونوں افراد کو ٹیررازم ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا جبکہ ان میں سے ایک پر سے الزامات واپس لے لیے گئے جبکہ دوسرے کو جیوری نے بری کر دیا، پائلٹ اور اس کے بھائی کو بھی گرفتار کیا گیا تھا تاہم ان پر الزامات عائد نہیں کیے گئے۔ گزشتہ ہفتے جرح کے دوران منیجر نے تسلیم کیا تھا کہ تفتیشی فائل میں ایسا کچھ نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ پائلٹ کسی جہاز کے ساتھ کوئی حریفانہ اقدام کرتا، پائلٹ کے بیرسٹر کلائیو شیلڈن کیوس نے پوچھا کہ آیا منیجر یہ سمجھتے تھے کہ پائلٹ جہاز کو کسی لمبی عمارت سے ٹکرانا چاہتا تھا تو اس نے کہا ایسا ممکن تھا۔
 
 
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر

کراچی سے