خرابی
  • فیڈ ڈیٹا اٹھانے میں خرابی
وقتِ دعا ہے؟ (عنشل نور) چھاپیے ای میل
پیر, 26 دسمبر 2011 13:40
اس وقت میرے سامنے سالٹ لیک سٹی (امریکا)  سے شائع ہونے والے اخبار Deseret News Theکا 11اگست 1945ء کا شمارہ کھلا پڑا ہے۔ اس کے صفحہ اول پر چند در دناک کہانیاں ہیں۔ اس صفحے کے پہلے کالم میںبیمارجاپانی شہنشاہ ہیرو ہیٹو کی اکلوتی اولاد نرینہ آکی ہیٹو، جو بمشکل 11سال 8 ماہ کاہے، کا تذکرہ واحد خوشی کی خبر ہے۔ شہنشاہ کی تین بچیوں کا یہ واحد بھائی ہے جو تخت کا وارث اور جاپان کے مستقبل کی امیدوں کا چراغ ہے۔

میڈیا والوںسے اللہ بچائے۔ انسان بیمار بھی ہوتا ہے اور اپنی مرضی و پسند کے ڈاکٹروں اور اسپتال سے علاج بھی کرواتا ہے۔ لیکن ہمارے صدرِمملکت کی بیماری ،دوبئی روانگی، ICU میںدو دن رہنے، نہ ختم ہونے والے ٹیسٹ، انجیوپلاسٹی اور پھر ان کے ذیابیطس ، بلڈ پریشر، عارضہ قلب اور دماغی حالت کو لے کر وہ وہ باریکیاں سامنے لائی گئیں کہ عقل چکر اکر رہ گئی۔ کہا گیا کہ یہ ساری غلط فہمیاں اور قیاس آرائیاں خوداُن کے ان بزرجمہروںکی وجہ سے پھیلیں جو ہر معاملے میں اپنی ماہرانہ رائے اور سیاسی بیان بازی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ بالکل ٹھیک! مگر حضرت یہ تو بتائیے کہ جب ایک وزیر کا بیان آپ نے لے لیا تو آپ کو یقین نہیں آیا؟ یا آپ نے اسے جھوٹا سمجھا؟ آپ کے بھوکے پیٹ میں اور کیا درد اٹھا کہ آدم بو، آدم بو کرتے سارا دن دوسروں کا بیان لینے کو بیتاب دکھائی دیئے ؟ اگر قسمت کا مارا کوئی اور وزیر یا مشیر ہاتھ آگیا اور اس نے حقائق کوبے ڈھنگے پن سے بیان کردیا تو آپ نے فوراً اسے Exclusiveکی فوٹیج کے ساتھ بار بار نشر کرنا شروع کردیا۔ مانا ان بزرجمہروں نے ملک کے ساتھ اپنی پارٹی کا بھی بیڑا غرق کر رکھا ہے۔لیکن انھیں اُکسانے والے بھی تو آپ ہی ہیں۔ 

اللہ صدر ِمملکت کو صحت دے۔ اللہ کا دیا ان کے اور ان کے خاندان کے پاس بہت کچھ ہے۔ ان کے رفقاء بھی ننگے بھوکے نہیں ہیں۔ اس لیے ملکی تاریخ کے اس تاریک ترین دور میں، جب بھارت ایک طرف، امریکا ہمارے پیچھے پڑا ہوا ہے، عوام پیچھے پڑے ہوئے ہیںاور مہنگائی و بے روزگاری ،لاقانونیت و دہشت گردی اور کرپشن و ڈِیپریشن کے بھوت پیچھے پڑے ہوئے ہیں،  صدر مملکت اور ان کی پارٹی کا حکومت چلانا بھی ایک معجزہ ہے ۔ بھلے کسی کو اس سے اختلاف ہو ، مگر فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ کانٹوں کا یہ تاج فی الحال کسی کو گوارہ نہیں۔ کوئی نہیں جو ایسی حالت میںحکومت کا خواہاں ہو۔ سو اس سے دوری کا یہی ایک بہانہ کافی ہے کہ''ہم جمہوری حکومت کو ختم کرنے میں معاون نہیں بنیں گے۔''

ان باتوں کے باوجود اسلام آباد کی فضائوں میں جو پراسراریت چھائی ہوئی ہے، وہ بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔ سیاست بھی عجیب کھیل ہے ۔ بیمار والدین کی خدمت و قربت اولاد کی سعادت سمجھی جاتی ہے۔ خدانخواستہ اولاد ملک میں موجود نہ ہو تب بھی ایسے موقعوں پر چارٹرڈ طیاروں سے بیمار تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسی حالت میں بچوں کو خود پر قابو نہیں رہتا۔  ڈاکٹروں کے روکنے کے باوجود وہ ICUتک میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرطِ جذبات اور وسوسوں سے کھانا پینا، آرام و قیام تک چھوٹ جاتاہے ۔ مگر میڈیا نے عجیب تماشا دکھانا شروع کیا۔ ایک طرف بیمار صدرِ مملکت فوری طور پر راتوں رات اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ ایک ایئرایمبولینس میںدبئی روانہ ہوئے اور دوسری طرف پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری سیدھے اسلام آباد وزیراعظم کے پاس جا پہنچے۔

وزیراعظم سے ا ن کی ملاقات بھی دیکھنے والی تھی۔ اس ملاقات کی فوٹیج خاص طور پر میڈیا کو مہیا کی گئی۔ پارٹی کے کم عمر اور نا تجربہ کار چیئرمین اور مستقبل کے وزیر اعظم روایتی سندھی ٹوپی میںپنجابی انداز سے چادر لپیٹے کچھ اجنبی اجنبی سے لگے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ سردیوں میں ٹوپی اور چادر کا استعمال عام ہے اس کے باوجود جدید تعلیم یافتہ اور ہائی سوسائٹی کا پروردہ جب ایسے حلیے میں میڈیا کے سامنے لایا جائے گا تو آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اس کے کیا کیا معنی نکالے جائیں گے؟ (پگڑی وہ باندھتے نہیں اس لیے یہاں بلوچیوں اور پختونوں کو  کچھ کہنے پر اکسانا مناسب نہیں)۔ تاہم اب بھی کچھ لوگ باز نہیںآئیں گے اور سوال پر سوال اٹھائیں گے۔

اب جبکہ وزیرِ اعظم صاحب نے کابینہ کو ان صحت کے بارے میں بریفنگ دے دی ہے اور ان کی جلدصحت یابی کے لیے خصوصی دعا بھی کروا دی ہے، زرداری صاحب کی حالت بہتر بتائی جانے لگی ہے ۔ اللہ کرے اس بار لوگ سچ بول رہے ہوں اور وہ جلد سے جلد صحت یاب ہو کر وطن لوٹ آئیں۔ چونکہ ان کی صحت یابی کی اطلاع میڈیا کے نزدیک کو ئی بریکنگ نیوز نہیں، اس لیے اب وہ بلاول بھٹو زرداری پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔زرداری صاحب کی اس پراسرار علالت کے دوران وہ اسلام آباد میں کیا کر رہے ہیں اورپارٹی کے تمام بڑوں کو یہ کیوں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اُن سے صرف اردو میں بات کریں؟ یہ لاکھوں کا سوال ہے!آئیے ذرا تاریخ میں جھانکتے ہیں۔

اس وقت میرے سامنے سالٹ لیک سٹی (امریکا) سے شائع ہونے والے اخبار Deseret News Theکا 11اگست 1945ء کا شمارہ کھلا پڑا ہے۔ اس کے صفحہ اول پر چند در دناک کہانیاں ہیں۔ اس صفحے کے پہلے کالم میںجاپانی شہنشاہ ہیرو ہیٹو کی اکلوتی اولاد نرینہ آکی ہیٹو، جو بمشکل 11سال 8 ماہ کاہے، کا تذکرہ واحد خوشی کی خبر ہے۔ شہنشاہ کی تین بچیوں کا یہ واحد بھائی ہے جو تخت کا وارث اور جاپان کے مستقبل کی امیدوں کا چراغ ہے۔ دو دن پہلے امنِ عالم کا علم بردار امریکا،صدر ہیر ی ٹرومین کے حکم پر 9 اگست 1945ء کو جاپان کے شہر ناگا ساکی پر وہ ایٹم بم، جسے پیار سے انہوں نے FAT MAN(موٹُو) کا نام دے رکھا ہے ، گرایا ہے۔ اس سے تین دن پہلے 6 اگست 1945ء کوپہلا ایٹم بم LITTLE BOY (چھوٹُو) ہیروشیما پر گرایا جا چکا تھا۔ دنیا نے پہلی بار ایک عظیم تباہی کا نظارہ کیا تھا۔ B-29 بمبار طیارے ، جن سے یہ بم گرائے گئے، فضا میں لرز اٹھے تھے۔ دھماکے سے ہزاروں مرے تھے اور تابکاری سے لاکھوں۔ ہیروشیما اور ناگا ساکی کی زمینیں بانجھ ہوگئیں۔ مائوں کی کوکھ بھی محفوظ نہ رہی۔ تابکاری کے اثرات نے نامکمل بچوں کی پیدائش عام کردی۔ زندہ بچ جانے والے زندہ درگور ہو گئے۔ جاپان زمیں بوس ہوگیا۔ ہتھیار ڈالنے پرمجبور ہو گیا۔ امن قائم ہو گیا!  

ایسے عالم میں 11 اگست 1945ء کا یہ امریکی اخبار ایک اور خبر شائع کرتا ہے۔ خبر اس جاپانی ولی عہد کے بارے میں ہے جو ابھی بارہ سال کا بھی نہیں ہوا۔ حالات کی نزاکت کی وجہ سے شہنشاہ ہیروہیٹو کے حکم پر میڈیا کے ذریعے اس کی بھرپور پبلسٹی شروع کر دی گئی ہے۔ اس کے شب و روز کی ایک ایک تفصیل میڈیا پر آنے لگی ہے۔ اسے ''پبلک فرینڈلی'' بنانے کے لیے بھرپور مہم کا آغاز کر دیاگیا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جارہا ہے کہ اسے فوری تاج و تخت سنبھالنے کی ذمہ داری سونپی جانے والی ہے۔ اس کی دن بھر کی مصروفیات کی ایک ایک تفصیل عوام کے سامنے لائی جا رہی ہے۔ تمام جاپانی اخبارات اس کی بڑی بڑی تصویریں شائع کر رہے ہیں۔ ان تصویروں میں شہزادہ، جاپان کا ہونے والا شہنشاہ بیحدشاندار نظر آرہا ہے۔ اس کی صحت قابلِ رشک نظر آرہی ہے۔ اکثر اخباروں میںان تصویروں کے نیچے لکھا ہے ''جنگ کی سختیوں کے باوجود شہزادہ کتنا باوقار نظر آرہا ہے۔'' کچھ تصویروں میں وہ اسکول یونیفارم میں ہے۔ ان کے نیچے لکھا ہے ''شہزادہ اسکول کے اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح سفید ٹوپی اور نیلی یونیفارم میں کیسا جچ رہا ہے۔'' کچھ اخبارات نے اسکول ذرائع سے خبر دی ہے کہ شہزادہ عام راشن پر گزارا کر رہا ہے کیونکہ عام جاپانی بھی راشن کے پابند ہو گئے ہیں۔ اسے اپنے عوام اور ان کی تکلیفوں کا شدید احساس ہے۔ وہ صبح 7 بجے سے شام 4بجے تک اپنا وقت مطالعہ، ایکسرسائز اور نظم و ضبط کی مشق میںبالکل اسی گزارتا ہے جیسے اسکول کے اس کے دوسرے ساتھی۔ اس سے فراغت کے بعد وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ کلاس روم کی صفائی میں لگ جاتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ…

تفصیلات اور بھی ہیں۔ یہ ساری تفصیلات ایک ولی عہد کی تاج و تخت سنبھالنے کے لیے فوری تربیت کی ہیں۔ شہزادوں اور ولی عہدوں کی تربیت اور انکی پبلسٹی ایک عام بات ہے۔ جب انھیں دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوا دی جاتی ہے، اشرافیہ میں اٹھنے بیٹھنے کی تمیز سکھادی جاتی ہے اور حکمرانی کے ایک ایک گُر بتادیئے جاتے ہیں تو آخر میں انھیں عوامی بنانا باقی رہ جاتا ہے۔ کیا اب بھی آپ کو سندھی ٹوپی اور پنجابی چادر پر اعتراض ہے؟
 
 
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر

کراچی سے