خرابی
  • فیڈ ڈیٹا اٹھانے میں خرابی
عمران کی سونامی اور اصغر خان کی دلدل......ذوالفقار علی بلتی چھاپیے ای میل
پیر, 30 جنوری 2012 21:15

    آج کل ملک میں عمران خان کی سونامی، جنرل پرویز مشرف کے زلزلے اور جاوید ہاشمی کی بہادری کے چرچے زوروں پر ہیں مگر لوگ شاید اصغرخان کی دلدل کو بھول چکے ہیں- اصغر خان ، عمران خان اور جاوید ہاشمی میں ایک بات جو قدر مشترک ہے وہ یہ کہ تینوں اپنے آپ کو عقل کل اور اپنے ساتھیوں سے مختلف اور منفرد سمجھتے ہیں - 1960ءکی دہائی کی بات ہے جب ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب کابینہ سے استعفی دے کر سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا تو سب سے پہلے ائر مارشل اصغر خان سے ملنے ایبٹ آباد میں ان کے گھر گئے اور ان سے ایوب خاں کے خلاف جدوجہد میں تعاون کے لئے کہا تو انہوںنے بھٹو صاحب کو جواب دے دیا کہ میں پی آئی اے کا چیئرمین لگ رہا ہوں اور ایوب خان سے میرے معاملات طے ہو چکے ہیں- پی آئی اے کی سربراہی کے بعد وہ وزارت دفاع کے امیدوار تھے- ایوب خاں نے وائس ایڈمرل اے آر خاں کو وزیر دفاع بنا دیا تو ایور مارشل صاحب ناراض ہو گئے اور ملک میں جاری تحریک بحالی جمہوریت میں یہ کہہ کر شامل ہو گے کہ وہ بھٹو صاحب کی شروع کی ہوئی تحریک کو کامیابی سے ہمکنا ر کریں گے - جس دن بھٹو صاحب جیل سے رہا ہو رہے تھے ساری رات قافلے جیل کی طرف جاتے رہے ایک ٹرک پر اصغر خان ، ممتاز بھٹو ، غلام مصطفی جتوئی سمیت دیگررہنما موجود تھے - نہ جانے اصغر خان کے ذہن میں یہ بات کیسے بیٹھ گئی کہ ساری خلقت ان کے ساتھ ہے-انہوںنے حیدر آباد آکر جسٹس پارٹی کے قیام کا اعلان اور سکھر کی پرانی نمائش گرانڈ میں جلسہ عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جو پاکستان کی سب سے بڑی گرانڈ تھی جس کا ایک بڑا حصہ دلدل بنا ہوا تھا - اصغر خان پہنچے تو وہاں چارسو سے پانچ سو تک لوگ تھے باقی دلدل تھی اور وہ اس دلدل میں ایسے ڈوبے کہ زندگی بھر کسی نشست سے ایک بڑے رہنما ہونے کے باوجود کامیاب نہ ہو سکے -
     عمران خان کرکٹ میں کامیابیوںسے ہمکنار ہو ئے تو ایک خیراتی ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا- قوم نے اس جذبے کو سراہتے ہوئے ان کی بھرپور مدد کی جس میں سرفہرست اس وقت کے وزیر اعلی محمد نواز شریف تھے جنہوںنے انہیں شوکت خانم ہسپتال کے لئے نہ صرف کئی ایکڑ سرکاری زمین مفت دی بلکہ پانچ کروڑ روپے کی خطیر رقم بھی تعمیر کے لئے دی -نواز شریف کے اس جذبے کو دیکھ کر قوم کے ہر مرد و زن اور بچوں نے شوکت خانم ہسپتال کے لئے عطیات دیئے - عوامی جذبے کو عمران خان اپنی عوامی مقبولیت سمجھ بیٹھے اور1996ءمیں سیاسی جماعت (تحریک انصاف) بنا لی - یہ1997ءکے عام انتخابات کی بات ہے کہ نواز شریف نے عمران خان کو اتحاد کی دعوت اور پانچ سے دس نشستیں دینے کی پیش کش کی لیکن عمران خان نے 40 نشستوں کا مطالبہ کر دیا جس پر یہ اتحاد نہ ہو سکا اور عمران خان ایک بھی نشست حاصل نہ کر سکے -2002ءکے انتخابات میں عمران خان نے مسلم لیگ (ن) سے وعدہ کیا کہ وہ جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف جدوجہد کریں گے لہذا پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ (ن) اور ایم ایم اے نے عمران خان کے مقابلے میں کوئی امیدوار کھڑا نہ کیا اس طرح عمران خان نے اصغر خان کے ریکارڈ کو توڑتے ہوئے اپنی نشست تو جیت لی لیکن ہضم نہ ہو سکی -
     آج عمران خان ملک میں اسی طرح بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کررہے ہیں جس طرح کبھی اصغرخان کیا کرتے تھے -یہ جلسے کیسے ہو رہے ہیں اور لوگوں کو ان جلسوں میں کیسے لایا جا رہا ہے یہ بات دنیا جانتی ہے اور کس طرح اور کیسے کیسے لوگوں کو تحریک انصاف میں شامل کیا جا رہا ہے یہ بھی سب پر واضح ہے کہ شاہ محمود قریشی کا خاندان اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں کے بغیر سیاست میں ایک قدم بھی نہیں چلتے -کون نہیں جانتا کہ شاہ محمود قریشی اور ان کے والد سجادحسین قریشی نواز شریف کے کتنے قریب تھے -یوسف رضا گیلانی جو خاندانی مسلم لیگی تھے، شاہ محمود قریشی کو جماعت میں زیادہ اہمیت ملنے کی وجہ سے پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے لیکن جب اشارہ ہوا تو شاہ محمود قریشی نے مسلم لیگ چھوڑکر 1993ءمیں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا -
    ایک زمانہ تھا کہ سیاست میں دو نعروں کو بڑی اہمیت حاصل تھی - ایک نعرہ ”سرخوں کے منہ پہ ایک طمانچہ فرید پراچہ “ اور دوسرا نعرہ ”ایک بہادر آدمی ہاشمی ہاشمی “ لگا کرتا تھا اور یہ دونوں اس وقت کے کم عمر لیکن معتبر نام سمجھے جاتے تھے -فرید پراچہ جماعتی ڈسپلن کے پابند تھے اس لئے وہ اسلامی جمعیت طلبہ سے لیکر آج تک جماعت اسلامی میں بطور مرکزی رہنما شامل ہیں-جاوید ہاشمی کیونکہ کسی تنظیمی نظم و ضبط میں رہنے والے شخص نہیں اس لئے اسلامی جمعیت طلبہ سے تحریک استقلال، پھر ضیاءالحق کی کابینہ،1985ءکی غیر جماعتی اسمبلی میںانڈیپنڈنٹ پارلیمانی گروپ،مسلم لیگ (ن) اور اب تحریک انصاف تک کا سفر بغیر کسی تنظیمی نظم و ضبط سے طے کیا اور جہاں بھی رہے تنہا رہے -
    آج تحریک انصاف جن لوگوں کا مجموعہ ہے ان میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اختر عبدالرحمن پر کتاب کے مصنف ہارون الرشید ، جنرل ضیا ءالحق کے دست راست ، سجاد حسین قریشی کے فرزند ارجمندشاہ محمود قریشی ، جنرل پرویز مشرف کے خورشید قصوری، آصف احمد علی ، جہانگیر ترین ، فیض ٹمن ، لغاری اور اسٹیبلشمنٹ کے جانے پہچانے کارندے طارق چوہدری وغیرہ وہ لوگ ہیں جوخفیہ ہاتھوں کے ذریعے کامیاب ہونے اور مالی مفادات حاصل کرنے پر یقین رکھتے ہیں - اب یہ فیصلہ عوام کرے گی کہ وہ آئندہ انتخابات میں کن لوگوںکو منتخب کریں گے - تحریک انصاف جنہیں آج کے خفیہ ہاتھ اپنی طاقت اور خفیہ مالی وسائل کے ذریعے منظم کر رہے ہیں- پیپلز پارٹی جو آج بدعنوان گھس بیٹھیوںکی جماعت بن بیٹھی ہے اور ملک کی معاشی اور اقتصادی حالت خراب کر رہی ہے - مسلم لیگ (ن)جس نے ہمیشہ آمریت کا مقابلہ کیا ملک کو موٹر وے ، غازی بروتھا ڈیم ، گوادر پورٹ ، کوسٹل ہائی وے ، ٹیلی کمیونیکیشن میں ترقی کے علاوہ میثاق جمہوریت کے ذریعے ملک میں جمہوری اقدار کو پروان چڑھا کر اقتدار کی بجائے ملک کی خاطرایثار و قربانی اور اصولی سیاست کو پروان چڑھانے کی کوشش کی- فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سونامی زلزلہ ، دلدل یا نوازشریف کے منشور خوشحالی ، امن ، ترقی اور ملکی خود مختاری میںسے کس کا ساتھ دینا چاہتے ہیں-
٭٭ذوالفقار علی بلتی نوازشریف کے فو ٹو گرافربھی ہیں٭٭

 
 
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر

کراچی سے