|
وہ زمانے میں معزز تھے (یاسین سامی، کویت) |
|
|
|
پیر, 26 دسمبر 2011 13:37 |
قرآنِ کریم ہر زمان ومکان میں مسلمانوں کے لئے ایک بہترین منہج اور ضابطہ حیات ہے،فرقانِ مجید شریعت ِ اسلامی کی مقدس اور لازوال کتابِ مطہر ہے، نبی آخر الزمان ﷺ کا تا ہوتی دنیا تلک باقی رہنے والا جاویداں معجزہ ہے، جس کی حفاظت وصیانت پاسبانی ونگہبانی کی ذمہ داری بھی خود باری تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے جیسا کہ ارشاد ہے: ﴾ انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون﴿ ہم نے خود اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم خود اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں، اور یہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ سینکڑوں سال بیت جانے کے باوجود اس کے ایک حرف بلکہ ایک حرکت میں بھی تحریف وتبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے، اور یہ عزت وشرافت، وقعت ومنزلت کا منبع ومصدر ہے ﴾انہ لقرآن کریم﴿ بے شک یہ قرآن بڑی عزت واکرام والا ہے،جس کے بارے میں ہم سے ضرور پوچھا جائے گا ﴾وانہ لذکر لک ولقومک وسوف تسالون﴿ بے شک یہ آپ کے لئے اور آپ کی قوم کے لئے نصیحت ہے اور تم سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ کلامِ الٰہی صراط مستقیم ہے لہذا عقائد، عبادات، اخلاقیات اور معاملات میں اس راہ پر چلنا ہر مسلمان پر واجب دینی ہے اور قرآن کریم وہ کتاب ہے جو لوگوں کو ان کے دینی ودنیاوی تمام امور سے روشناس کراتی ہے،ا اور یہ کتاب حق وباطل، سعادت وشقاوت، تاریکی وروشنی، تارگی وتیرگی میں فرق کرنے کی کسوٹی اور معیار ہے، اور یہ کتاب سراسر نور ورحمت اور مشعل ِ راہ ہے جو کہ انسانوں کو جہالت کی تاریکی سے علم کی روشنی، شکوک وشبہات سے یقین وطمانیت اور گمراہی وضلالت سے رشد وہدایت کی طرف کھینچ لاتا ہے، اور اس کی عظمت ومنزلت کی معرفت اس آیتِ مبارکہ سے ہوتی ہے ﴾لو انزلنا ھذا القرآن علی جبل لرایتہ خاشعا متصدعا من خشیة اللہ﴿ اگراس قرآن کو کسی پہاڑ میں انسانوں جیسے فہم وادراک کی صلاحیت پیدا کرکے اس پر اتارا جاتا تو اس میں موجود بلاغت وفصاحت، قوت واستدلال اور وعظ وتذکیر کے مختلف پہلووں کو سن کر اس کی اتنی سختی وصلابت، وسعت وبلندی کے باوجود بھی خوف وخشیت ِ الٰہی کے مارے ریزہ ریزہ اور چکناچور ہو جاتا، اس میں انسان کے لئے سبق آموز نصیحتیں ہیں کہ فہم وفراست، عقل وخرد کی صلاحیتوں کے باوجود بھی اگر قرآنی تاثیر اس کے دل میں پیدا نا ہو جائے توسمجھ لینا چاہئے کہ اس کا انجام برا ہو گا۔قرآنِ حکیم ایک بہترین ضابطہ حیات، لائحہ عمل، قانونِ زندگی اور دستور ومنشورِ خلائق ہے، جس کو پڑھنا، یاد کرنا، دہرانا، سمجھنا، اور اس پر عمل پیرا ہونا ہر مسلمان مرد وزن پر فرض اور ضروری ہے، کیوں کہ جو بھی قرآن و حدیث پر عمل پیرا ہو جائے اور ان پر یقینِ کامل اور اعتقادِ لازم حاصل ہو اسے دنیا کی بڑی سی بڑی طاقت بھی کوئی زک یا نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے۔اور یہ وہ کتاب الٰہی ہے جس کے ذریعے رب کائنات نے پوری بشریت کو شرک والحاد، ضلالت وجہالت، نفرت وتنزلی کی تاریکیوں سے اسلام وایمان، ہدایت ومعرفت، الفت وترقی کی تارگیوں کی طرف لے آیا ہے۔ قرآن پاک کے حرف حرف میں حکمتوں کے جواہر وموتی پوشیدہ ہیں، اور یہی کتاب سائنس اور ٹیکنالوجی کا منبع ومصدر بھی ہے، اسی لئے ایک معروف سائنسدان نے کہا تھا کہ سائنس کی انتہا قرآن کی ابتدا ہے، جن فارمولوں اور علوم کو وہ اس دور میں اکتشاف کر رہے ہیں ان کے متعلق قرآن میں واضح بیان بھی موجود ہے، اسی وجہ سے کئی متبحر سائنسدان حلقہ بگوشِ اسلام بھی ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور اور مرحلے میں جب مسلمان قرآن کو اپنا دستور اور ضابطہ حیات مانتے تھے اور اس کے علاوہ وضعی قوانین اور آرڈیننس کو ہیچ سمجھتے تھے، اس لئے تعداد میں کمی اور بے سر وسامانی ان کی فتوحات کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکی، جب تعداد صرف ۳۱۳ تھی تو ساری دنیا پر ان کا تسلط و غلبہ تھا اور انہی کا سکہ چلتا تھا، اور اپنی ایمانی قوت وطاقت کا لوہا منوا چکے تھے، یہی وجہ تھی کہ اس وقت کی سب سے مضبوط وقوی ہیکل طاقت اور اس زمانے کی" سپر پاور" طاقتیں روم وفارس ان کے خوف سے لرزہ بر اندام تھےں۔مگر ستم بالائے ستم اس دور میں مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، تعداد میں کہنے اور شمار کرنے کو تو سوا ایک ارب سے بھی تجاوز کر گئی ہے، ۶۵ سے زائد اسلامی مملکتیں، ریاستیں ، ممالک اور کنٹریز ہیں، تمام قدرتی وسائل ان کے ہاتھوں میں ہیں، پٹرول، گیس، المونیئم، لوہا، نمک،وغیرہ اور دوسری تمام معدنیات اسلامی ملکوں سے ایکسپورٹ ہوتی ہیں، قدرتی وسائل کی تمام کانیںقدرت نے ان کو ودیعت کی ہوئی ہےں، دھاتی، زمینی، آبی، فضائی ہر وسائل سے مالا مال ہیں، دنیا کی سب سے بڑی کرنسی بھی کویتی دینار ہے ( اس وقت ایک دینار کی قیمت ۳۱۳ پاکستانی روپے ہیں ) اور فی کس آمدنی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے پہلا ملک بھی اسلامی ہے اور وہ کویت ہے لیکن جب مسلمانوں کی تعداد میں کمی اور بے سروسامانی تھی اس وقت وہ معزز تھے، جلالت وشرافت، وقار وعزت، فتح مندی وفتح یابی، تسلط وغلبہ، کامیابی وکامرانی ان ہی کا حصہ تھا، اور جب تعداد ان گنت ہو گئی تمام وسائل کے مالک بن گئے تو ذلت ورسوائی، شکست وناکامی ان کی مقدر بن گئی جس پر ایک ہی نہیں بلکہ ہزار سوالیہ نشان ہےں۔ان ایام میں مسلمان ایک کٹھن اور دشوار گزار مرحلے سے گزرنے سے دوچار ہیں، جاپان سے لے کر امریکہ تک طولِ بلد میں اور روس سے لے کر ساوتھ افریقہ تک عرضِ بلد میںاگر ہم دیکھیں اور پرکھیں تو ہر جگہ مسلمان مظلوم، مقہور اور مجبور ہیں، مسلمانوں کی مساجد اور عبادت گاہیں منہدم ہو رہی ہیں، ان کی کتابِ مقدس قرآنِ کریم کی بے دریغ دن دیہاڑے بے حرمتی کی جا رہی ہے، ان کے نوجوانوں کو شہید کئے جا رہے ہیں، ان کے بوڑھوں کے جسموں کو چھلنی کئے جا رہے ہیں، انکی ماوں اور بہنوں کی عزت وآبرو کی آنچل کو تار تار کی جارہی ہے۔کشمیر ہو یا فلسطین، عراق ہو یا افغانستان، چیچنیا ہو یا فلپائن، بوسنیا ہو یا برما،تھائی لینڈ ہو یا سویٹزرلینڈ ہر جگہ ہر سمے ہر سمت مسلمان ہی گوناگوں مصائب ومشکلات کی چکی میں پس رہے ہیں، ان کی عزت وناموس، مال ومنال، جان وجسم، اسباب وجائیداد اور ایمان واسلام تک پر دگرگوں مظالم و شدائد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، جسے وہ چار ونا چار سہنے پر بے بس ومجبور ہیں۔آخر ان حالات کی وجہ کیا ہے؟ سبب کیا ہے؟ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ اور مسلمانوں کے لئے اتنی رذالت وقباحت کیوں کر راس آتی ہے اور انہیں یہ سب کچھ کیوں منظور و مقبول ہے؟ ان کے اسباب ووجوہات کیا ہیں؟ اور اصل ذمہ دار کون ہیں؟؟!!یہ سب کچھ اگر ہو رہا ہے تو اپنی کرتوت کی سزا ہے، بجز اس کے کچھ نہیں ہے ﴾ذلک بما کسبت ایدیکم وان اللہ لیس بظلام للعبید﴿، یہ سب ان کے ہاتھوں کے کئے کی سزا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا ہرگز نہیں ہے۔ جب تلک مسلمانوں نے اپنا ضابطہ، دستور ومنشور کو قرآن وفرقان بنائے رکھا اس کی تعالیم کو اپنارکھیں، اور ہر معاملے کو شریعت ِ محمدی ﷺ کی کسوٹی پر تولتے رہے انکی عزت وناموس اور جان ومال سب محفوظ رہے، اور جبھی انہوں نے قرآنی احکامات کو ترک کیا، وضعی قوانین اور مغربی دساتیر کو اپنا قانونِ زندگی بنانے پر راضی برضا ہوئے تبھی وہ ذلیل وخوار ہو گئے، ان کی عزت وآبرو، جان ومتاع، زر وزن اور زمین سب ارزاں ہو گئیں، کیونکہ ہمارے اسلاف بحیثیتِ حقیقی مسلمان صاحبِ قرآن ہو کر معزز ومکرم تھے، اور ہم بحیثیت ِ نام لیوا مسلم امہ تارکِ فرقان ہو کر ذلیل وخوار ہو گئے ہیں، ڈر یہاں تک ہے کہ کہیں ہم پر یہ صادق نہ آجائے کہ "تم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہے"، جسے علامہ اقبال نے اپنی لا جواب، معرکة الاراءاور شاہکار نظم "جواب شکوہ" کے بیسویں بند میں کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کراور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کراور یہ بات عیاں ہو گئی کہ ایک صحیح مسلمان بننے اور اللہ کی رضا کے مستحق ٹھہرنے کے لئے ضروری ہے کہ قرآنی تعلیمات اور احکامات پر عمل پیرا ہوں، بجز اس کے صحیح سالم مسلمان بننا ممکن ہی نہیں ہےحضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جب مصحف ِ شریف کو اٹھاتے تھے تو وہ رونے لگتے تھے اور زبان سے یہ کلمات جاری ہو جاتے تھے کہ جہاد کی وجہ سے ہم آپ سے مشغول رہے، اور کما حقہ حق ادا نہیں ہو سکا، پوری زندگی کو قرآنی قالب میں ڈھالنے کے باوجود بھی ہمارے سلف ِ صالحین اس طرح اپنی تقصیر بیان کرتے تھے، تو ہماری کیا حالت ہونی چاہئے؟ اگر صحابہ کرام کو جہاد فی سبیل اللہ نے قرآن سے مشغول رکھا ہے تو ہم اپنے آپ سے پوچھیں کہ آخر ہمارے لئے کیا عذر ہے کہ ہم قرآن کے لئے کوئی وقت نہیں دے سکتے ہیں، روزانہ چند آیات کی تلاوت کے لئے کچھ وقت تک نہیں نکال سکتے حالانکہ انٹرنیٹ، چیٹنگ رومز اور فیس بک، ٹیویٹر جیسی سوشل نیٹ ورکس پر کئی کئی گھنٹے گزار لیتے ہیں لیکن قرآن کے لئے ہمارے پاس وقت نہیں ہے، شاپنگ مالز، مارکیٹس، بیوٹی پارلرز اور دکانوں کے طواف بڑے شوق وذوق اور جذب ومستی میں کرتے ہوئے بہت وقت ضائع کرنے کے لئے ہر وقت کمر بستہ رہتے ہیں مگر فرامین ِ ربانی اور فرموداتِ نبوی کے فیوض وبرکات سے بہرہ مند ہو کر فلاحِ دارین حاصل کرنے کے لئے کوئی وقت نہیں نکال سکتے ہےں، اور اکثر مسلمانوں کی حالتِ زار یہ ہے کہ گزشتہ رمضان تا آئندہ رمضان مصحفِ شریف کی دیدار تک انہیں نصیب نہیں ہوتی ہے، گویا اس کو صرف رمضان میں پڑھنے کے لئے اتارا گیا ہو؟؟ جب مسلم دنیا کی یہ حالت ہو تو انہیں یہ فتح وکامرانی اور غلبہ وتسلط کی باتیں محض حکایت لگتی ہے اور قصہ بن کر کتابوں میں بند ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ آج کی نام نہاد روشن خیال مسلمان نسل کو کانوں کان بھی ان کی خبر تک نہیں ہے ، اور سراپا گفتار بنے ہوئے بڑے آس لگائے بیٹھے ہیں حالانکہ ان کے اسلاف سراپا کردار اور وحی الٰہی کا عملی نمونہ ہوا کرتے تھے، بقولِ حکیم الامت، شاعرِ مشرق اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کینقش ہے صفحہ ہستی پہ صداقت ان کی جیسا کہ رسول ِ مکرم ﷺکے بارے میں حضرتِ عائشہ نے فرمایا تھا کہ آپ قرآن کا عملی نمونہ تھے، آپ ﷺ کے اخلاق قرآنی تعلیمات پر مبنی تھے، اور آپ مدرسہ نبوت میںاپنے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے والے علم کے پروانوں کو صرف دس آیتیں سکھاتے تھے اور جب تلک وہ ان کو حفظ کر کے اپنی عملی زندگی کا حصہ نہیں بناتے آگے نہیں بڑھتے تھے، اس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت وتزکیہ نفس محمد عربی ﷺ کے ہاتھوں پریکٹیکلی علما وعملا ہوا، اور قیصر وکسریٰ کی مملکتوں کو تخت وتاراج کرتے ہوئے اس بانگِ سدا "جئنا لنخرج العباد من عبادة العباد الی عبادة رب العباد "کا پوری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹا گیا، اور مسلمانوں کو بزبانِ فاروق عمر بن الخطاب یہ باور کرایا گیا کہ "نحن قوم اعزنا اللہ بالاسلام ومتی ابتغینا العزة بغیرہ اذلنا اللہ "ہماری مسلم قوم کو اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت ومنزلت عطا کی ہے، اور جوں ہی ہم اسلام سے کنارہ کشی اختیار کریں گے اللہ ہمیں ذلیل و رسوا کر دیں گے، اور اس وقت یہی وجہ امت ِ اسلامیہ کی ذلت ورسوائی کا باعث بنی ہوئی ہے۔
|