|
پاکستان تنازعہ کشمیر کو ثانوی درجہ دے کر بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھا رہا ہے:سید علی گیلانی |
|
|
|
بدھ, 22 فروری 2012 16:55 |
سرینگر ( پاک میڈیا اپ ڈیٹس کشمیر ڈیسک) چیئرمین حریت کانفرنس اور بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان تنازعہ کشمیر کو ثانوی درجہ دے کر بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھا رہا ہے ہونا یہ چاہیے تھا کہ پاکستانی حکمران تنازعہ کشمیر کے حتمی حل اور فوجی مظالم کو اجاگر کرانے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں میں تیزی لاتا کشمیری قوم کو پاکستانی حکمرانوں کی کشمیر کے حوالے سے سرد مہری بہت کھٹکتی ہے وہ بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے پر بھی مطمئن نہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹیڈیز اسلام آباد کے چیئرمین سنیٹر پروفیسر خورشید نے سید علی گیلانی کے ساتھ ٹیلیفون پر تفصیلی بات چیت کی اور انکی خیروعافیت دریافت کی۔ دونوں رہنماﺅں نے تنازعہ کشمیر اور بلوچستان کی صورتحال کے مختلف پہلوﺅں پر تبادلہ خیالات کیا اور آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق تجاویز پر غور وخوض کیا۔ سید علی گیلانی نے اس موقع پر کہاکہ کشمیری قوم کو پاکستانی حکمرانوں کی کشمیر کے حوالے سے سرد مہری بہت کھٹکتی ہے اور وہ بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے پر بھی مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت تنازعہ کشمیر کے سلسلے میں اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑنے پر تیار ہی نہیں ہے اور اس کی فورسز جموں کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالیوں کا ارتکاب کررہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستانی حکمران تنازعہ کشمیر کے حتمی حل اور فوجی مظالم کو اجاگر کرانے کے لیے اپنی سفارتی کوششوں میں تیزی لانے اور بھارت کو عالمی فورموں میں جوابدہی کے مقام پر کھڑا کیا جاتا۔ اس کے برعکس بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھاکر تنازعہ کشمیر کو ثانوی درجہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے اور بھارتی حکومت کو یہ موقعہ فراہم کیا جاتا ہے کہ وہ عالمی برادری کو کشمیر کے بارے میں گمراہ کرے اور یہ تاثر پیدا کیا جائے کہ کشمیر میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ پروفیسر خورشیدنے حریت چیئرمین کے خیالات کے ساتھ اتفاق کیا اور کہا کہ پاکستان میں بھی محب وطن لوگ حکمرانوں کی کشمیر پالیسی پر گہری نظر رکھتے ہیں اور یہاں بھی اس سلسلے میں تحفظات موجود ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستانی عوام کشمیریوں کو کسی بھی مرحلے پر تنہا نہیں چھوڑینگے اور حکمرانوں کو بھی اس بات کا قائل کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائے گی کہ تنازعہ کشمیر کا حتمی حل خود پاکستان کے استحکام اور اس کی سالمیت کیلئے بھی ناگزیر ہے۔ بلوچستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے علی گیلانی نے کہا کہ میں نے پرویز مشرف پر بہت پہلے واضح کیا تھا کہ اپنے لوگوں کے ساتھ معاملات کو افہام وتفہیم کے ذریعے سے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے اور طاقت کا بے تحاشا استعمال کسی بھی طور جائز نہیں ہے۔ اس پالیسی کے ہر سطح پر منفی اثرات مرتب ہونگے اور اس سے مملکت خداداد پاکستان کا استحکام بھی متاثر ہوگا۔ بزرگ رہنما نے کہا کہ بلوچ عوام کی اکثریت نظریاتی طور پاکستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور وہ پاکستان کی سالمیت پر کسی طرح کا آنچ برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام کی شکایات کو دور کرنے کے لیے ان کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا جانا چاہیے اور غیر ملکی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکی کانگریس میں چندممبروں کی طرف سے بلوچستان کے متعلق قرارداد پیش کرنے کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے بزرگ حریت رہنما نے کہا کہ دنیا کی بڑی طاقتوں کو ترقی پذیر ممالک کی خودمختاری اور آزادی کا احترام کرنا چاہیے اور ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کو بند کیا جانا چاہیے۔
|