|
ملکی عالمی قوانین سے واقفیت نہ ہونے پر بھارتی افواج مظاہرین طاقت کا بے تحاشہ استعمال کرتی ہے ،ایشین سنٹرفار ہیومن رائٹس |
|
|
|
جمعرات, 12 جنوری 2012 16:23 |
سرینگر(پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام) انسانی حقوق کی تنظیم ایشین سینٹر فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ بھارتی افواج اور پولیس ملکی و عالمی قوانین سے واقف نہیں ہے، اسی بنا پر مقبوضہ کشمیر سمیت دیگر ریاستوں میں احتجاجی مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے تحاشہ استعمال کیا جاتا ہے ۔ تنظیم نے سی آئی ایس ایف حکام کے سرکولر کو سی آر پی سی کے سیکشن 129کی سریحا خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بونیار کے نوجوان کو بلا وجہ فورسز اہلکاروںنے گولیاں مار کر ابدی نیند سلادیا ۔ اس دوران ایشین سینٹر برائے ہیومن رائٹس نے نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گذشتہ 5برسوں کے دوران بھارت میں 1462عام شہری پولیس فائرنگ کے نتیجے میں مارے گئے جبکہ 2010میں بھی ایسے واقعات میں مارے گئے افراد میں سے 51فیصد کو پولیس اہلکاروں نے مختلف نوعیت کے احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک کرڈالا۔ حقوق انسانی تنظیم ایشین سینٹر فار ہیومن رائٹس کی ڈائریکٹر سہاس چکما نے نئی دہلی سے شائع ہونے والے ایک انگریزی رسالے تہلکہ میں تحریر کردہ اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ شمالی کشمیر کے بونیار علاقہ میں بجلی صارفین پر فائرنگ کر کے جس انداز میں سی آئی ایس ایف کے اہلکاروںنے ایک نوجوان کی جان لی ، مذکورہ فورس کی وہ کارروائی کسی بھی طور کوئی جواز نہیں رکھتی تھی ۔ سہاس چکما نے مزید لکھا ہے کہ سی آئی ایس ایف کی یہ کارروائی سی آر پی سی کے سیکشن 129کی خلاف ورزی ہے جبکہ سی آئی ایس ایف کے ڈی آئی جی شکھا گوئل کی طرف سے 30ستمبر 2011کو اجرا کردہ سرکیولر بھی جائز نہیں ہے کیونکہ سی آر پی سی کے سیکشن 129میں واضح طور یہ بتایا گیا ہے کہ اگر مظاہرین کسی جگہ غیر قانونی طور جمع ہوں تو انہیں منتشر کرنے کیلئے پہلے اقدام کے طور ان کی گرفتاری عمل میں لائی جائے اور اگر ایسا ممکن نہیں تو طاقت کا کم سے کم استعمال کر کے انہیں تتر بتر کیا جائے اور اگر تب بھی احتجاجی مظاہرین منتشر نہیں ہوجاتے ہیں تو ان کے خلاف طاقت کا اتنا استعمال میں کیا جائے کہ انہیں کم سے کم زخم لگیں ۔ جبکہ سہاس چکما نے سی آر پی سی 129کا حوالہ دیتے ہوئے مزید بتایا ہے کہ کسی جگہ غیر قانونی طور جمع ہوکر احتجاج پر آمادہ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے جب پولیس یا دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کو طاقت کا استعمال کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو اس صورت میں انہیں کوئی بھی کارروائی شروع کرنے سے قبل متعلقہ مجسٹریٹ کی اجازت لینی چاہیے ۔ ایشین سینٹر فار ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر نے مزید تحریر کیا ہے کہ عمومی طور جموں وکشمیر اور بھارت کی دیگر ریاستوں میں احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے قواعد وضوابط اور قوانین کا کوئی پاس و لحاظ نہیں کیا جاتا ہے اور سیکورٹی اہلکار بغیر اجازت لئے خود مظاہرین کے خلاف طاقت کا حد سے زیادہ استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجے میں عام شہری مارے جاتے ہیں۔ انہوںنے احتجاجی مظاہرین کے خلاف مہلک ہتھیاروں کے استعمال کو عالمی قوانین کی سریحا خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے رول 9میں مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کئے جانے کی ضرورت کے حوالے سے بنیادی اصول مرتب کئے گئے ہیں لیکن بھارت میں فورسز اور پولیس کی طرف سے ان بنیادی اصولوں پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا ہے ۔ سہاس چکما نے ملکی و عالمی قوانین اور ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے ایک حکمنامہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ مظاہرین کے خلاف ربر کی گولیوں کا استعمال بھی غیر قانونی ہے کیونکہ ان گولیوں سے بھی لوگ سخت زخمی یا مر سکتے ہیں۔ اپنے تحریر کردہ مضمون بعنوان انسانی زندگی ایک گولی سے بھی سستی کے آخر میں ایشین سینٹر فار ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر سہاس چکما نے طنزیہ انداز میں تحریر کیا ہے کہ بھارت میں بندروں اور دیگر جانوروں کو دئیے جانے والے حقوق انسانوں کو بھی دئیے جاسکتے ہیں۔
|