|
فوجی سربراہ کا عہدہ حاصل کرنے کا لالچ ، جنرل بکرم سنگھ پھنس گئے ، 10سال پرانا فرضی انکاﺅنٹر کیس کھل گیا،عدالت نے وزارت دفاع اور ریاستی حکومت سے وضاحت طلب کرلی |
|
|
|
جمعرات, 12 جنوری 2012 16:19 |
سرینگر(پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام)بھارت کے نئے فوجی سربراہ کا عہدہ سنبھالنے کی دوڑ میںکلیدی مقام رکھنے والے فوج کی مشرقی کمان کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل بکرم سنگھ مقبوضہ کشمیر میں 10سال قبل کیے گئے فرضی انکاﺅنٹرکے تنازعہ میں گھر گئے ہیں اور یہ معاملہ انکے فوجی سربراہ بننے میں آڑے آسکتا ہے۔ فرضی جھڑپ میں شہید کرکے مبینہ طور پاکستانی مجاہد کمانڈر قرار دیئے گئے شہری کی ماں اور بہن نے ایک دہائی بعد ریاستی ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات اور مہلوک کی قبر کشائی کی درخواست کی ہے جبکہ عدالت نے اس ضمن میں وزارت دفاع اور یاستی سرکار سے وضاحت طلب کی ہے۔ تاریخ پیدائش کے تنازعہ میں پھنسے بھارت کے موجودہ فوجی سربراہ جنرل وی کے سنگھ 31مئی 2012کو ریٹائر ہورہے ہیں اور وزارت دفاع نے انکی جگہ نئے فوجی سربراہ کی تلاش میں سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔وزارت دفاع فوج کے نئے سربراہ کے عہدے کیلئے کسی موزون ، اہل اور تجربہ کار کمانڈر کا انتخاب عمل میں لانے کی خواہاں ہے اور اس دوڑ میںسینئر ترین لیفٹنٹ جنرل بکرم سنگھ سب سے آگے ہیںجو اس وقت فوج کی مشرقی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔تاہم انکے فوجی سربراہ بننے سے پہلے ہی لیفٹنٹ جنرل بکرم سنگھ ایک حساس تنازعہ میں گھر گئے ہیں۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سال2001میں وادی کشمیر میں تعیناتی کے دوران ایک عام شہری کو مبینہ طور فرضی جھڑپ میں شہید کرکے اسے ایک مطلوب پاکستانی مجاہدکمانڈر قرار دیا۔لیفٹنٹ جنرل بکرم سنگھ سال2001میں فوج کی5سیکٹر آر آر میں ایک بریگیڈئر کی حیثیت سے تعینات تھے جس کا ہیڈکوارٹر اننت ناگ میں واقع تھا۔یکم مارچ 2001کے روز اننت ناگ کے ہی جنگلات منڈی علاقہ میں فوج اور مجاہدین کے درمیان ایک خونریز تصادم آرائی ہوئی اور یہ انکاﺅنٹر لیفٹنٹ جنرل بکرم سنگھ کی قیادت میں ہی انجام دیا گیا تھا۔جھڑپ میں لیفٹنٹ جنرل سنگھ خود بھی زخمی ہوگئے جس کے بعد انہیں بہادری کے اعزاز سے نوازا گیا۔جھڑپ میں مجموعی طور پر 5افراد شہید ہوگئے تھے جن میں فوج کے دو اہلکار اور دو عام شہری بھی شامل تھے جبکہ ایک مہلوک کے بارے میں فوج نے دعوی کیا تھا کہ وہ پاکستانی مجاہد کمانڈرمتین چاچا تھا جو فوج کو ایک طویل عرصے سے انتہائی مطلوب تھا۔ اس ضمن میں پولیس نے جو رپورٹ درج کی تھی ، اس میں فوجی دعوے کی تصدیق کی گئی لیکن فوج نے جس شخص کو پاکستانی مجاہد قرار دیا تھا ، اسکے بارے میں یہ بات سامنے آئی کہ اس کا نام محمد عبداللہ بٹ تھا ، وہ مژھل کپوارہ کا رہنے والا تھا اور مزدوری کرکے اپنے گھروالوں کی کفالت کرتا تھا۔چنانچہ اننت ناگ کی ایک مقامی رضاکار تنظیم نے اس جھڑپ کو فرضی قرار دیکر اس سلسلے میں نومبر2011میں نئی دہلی میں ایک احتجاجی مظاہرے کا بھی اہتمام کیا اور جنگلات منڈی انکاﺅنٹر کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔محمد عبداللہ کے گھروالوں نے اس ضمن میں اگر چہ پولیس اور فوج کے ساتھ رابطہ قائم کیا لیکن انکی طرف کسی نے توجہ نہیں دی اور نہ ہی انہیں جھڑپ میں مارے گئے مبینہ شخص کی تصاویر دکھائی گئیں تاکہ اسکی شناخت کی جاتی ۔اس جھڑپ کو دس سال ہوگئے اور اب یہ مبینہ فرضی جھڑپ اس وجہ سے اخبارات کی سرخیوں میں ہے کہ اسکی قیادت کرنے والے فوجی کمانڈرلیفٹنٹ جنرل بکرم سنگھ ممکنہ طور فوج کے نئے سربراہ کا عہدہ سنبھالنے جارہے ہیں۔تاہم اس جھڑپ کے ایک بار پھر منظر عام پر آنے سے لیفٹنٹ جنرل بکرم سنگھ کے فوجی سربراہ بننے میں اڈچنیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس دوران طویل مدت کے بعد گذشتہ برس محمد عبداللہ کی والدہ زیتونہ بیگم اور بہن جانہ نے ریاستی ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کرتے ہوئے جنگلات منڈی جھڑپ کوفرضی انکاﺅنٹر قرار دیا ہے۔عرضی دہندگان نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ اس جھڑپ کی از سر نو تحقیقات کے احکامات صادر کریںاور جس شخص کو غیر ملکی مجاہد قرار دیا گیا اسکی قبر کشائی عمل میں لاکر ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے اس کی شناخت کرائی جائے۔پٹیشن میں کہا گیا ہے جھڑپ میں جاں بحق ہونے والے مبینہ مجاہد کی وہ تصاویر محمد عبداللہ کے افراد کنبہ کو دکھائی جائیں جو پولیس نے کھینچی تھیں۔ عدالت عالیہ میں یہ پٹیشن کئی بار زیر سماعت آئی اور 13اکتوبر2011کو عدالت نے وزارت دفاع اور ریاستی حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے اپنے جوابات دائر کرنے کی ہدایت دی۔عدالت نے جھڑپ سے متعلق تمام ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی تاکہ اس کی مزید شنوائی ممکن ہوسکے۔مذکورہ پٹیشن کی مزید سماعت کے لئے کئی بار تاریخوں کا تعین عمل میں لایا گیا تاہم اسکی سماعت ممکن نہیں ہوسکی اور کیس التوا میں پڑا رہا۔کیس کی تازہ سماعت28دسمبر2011ہائی کورٹ کے جسٹس مظفر حسین عطار کے سامنے طے تھی لیکن اس بار بھی سماعت ملتوی ہوئی اور اب اگلی سماعت کے لئے 13فروری2012کی تاریخ مقرر ہے۔ معاملے پر گذشتہ روز فوج کے موجودہ سربراہ جنرل وی کے سنگھ سے جب صحافیوں نے پوچھا تو انہوں نے اس پر کوئی رائے زنی کرنے سے معذوری ظاہر کی۔انہوں نے کہا میں اس پر کچھ نہیں کہوں گا، ابھی یہ معاملہ میڈیا میں ہے، جب ہمارے پاس آئے گا تو ہم آپ کو بتائیں گے۔ادھربانڈی پورہ کے ایک گاﺅں میں اس وقت کہرام مچ گیا جب ایک22سالہ نوجوان نیند کے دوران بستر میں کانگڑی الٹ جانے سے زندہ جل کر لقمہ اجل بن گیا ۔ فیاض احمد وانی ولد عبدالعزیز ساکن اہم شریف نامی نوجوان منگل کی شب رات کا کھانا کھانے کے بعد معمول کے مطابق اپنے کمرے میں سو گیا ۔مذکورہ نوجوان نے بستر میں اپنے ساتھ ایک کانگڑی بھی رکھی تھی اور بدھ علی الصبح جب اس کے گھر والوں نے اس کے کمرے سے گہرا دھواں نکلتے ہوئے دیکھاتو انہوں نے فیاض احمد کو آواز دیکر جگانے کی کوشش کی ۔تاہم اندر سے کوئی جواب نہیں آیا جس کے بعد کمرے کا دروازہ توڑ دیا گیا ۔اس موقعہ پر فیاض احمد کے گھر والوں پر یہ دیکھ کر قیامت ٹوٹ پڑی کہ اس کا بستر اور کمرے کی بچھائی پوری طرح سے جل گئی ہے جس پر فیاض احمد مردہ پڑا ہوا تھا ۔معلوم ہوا ہے کہ فیاض احمد کا پورا جسم بری طرح سے مسخ ہو چکا تھا اور وہ نیند کے دوران زندہ جل کر لقمہ اجل بن گیا ۔یہ واقعہ فیاض احمد کے بستر میں موجود کانگڑی کے الٹ جانے سے پیش آیا ۔فیاض احمد کو مردہ دیکھتے ہی جب اس کے اہل خانہ چیخ و پکار اور سینہ کوبی کرنے لگے تو پوری بستی وہاں جمع ہو گئی ۔
|