خرابی
  • فیڈ ڈیٹا اٹھانے میں خرابی
سال 2011 ،مقبوضہ جموں کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے ایک اور المناک سال چھاپیے ای میل
ہفتہ, 31 دسمبر 2011 16:24
 سری نگر(پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام) سال 2011 مقبوضہ جموں کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے ایک اور المناک سال رہا ہے۔جنوری 1989 سے دسمبر2011 تک بھارتی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے شہرےوں کی تعداد 93,716 تک پہنچ گئی ہے ۔ جدو جہد آزادی مےں مصروف کشمےرےوں کے وکےل نے بھارت کو تجارت کے لےے پسندےدہ ملک قرار دے دےا ہے جبکہ اس سال بھی کشمےر میں بھارتی فورسز کے مظالم کا سلسلہ جاری رہا ۔ تفصےلات کے مطابق سال 2011 کے دوران حرےت رہنما علی گےلانی اور شبےر شاہ تقرےباً سارا سال نظر بند رہے حرےت کانفرنس (گ) نے سال 2011 کو ایک اور المناک سال سے تعبےر کےا ہے ۔ اس سال جہاں سوپور کے ناظم رشید کی حراستی ہلاکت اور پونچھ فرضی جھڑپ میں ایک بے گناہ شہری کے قتل جیسے واقعات رونما ہوتے رہے، وہاں سال کے سال نوجوانوں اور معصوم طالب علموں کی گرفتاریوں اور انہیں پی ایس اے کے تحت جیل بھیج دینے کا ایک لامتناہی سلسلہ بھی جاری رہا۔حریت ترجمان ایاز اکبر نے کہا کہ سید علی شاہ گیلانی کو سال کے سال گھر میں نظربند رکھنے،آزادی پسندوں کی سیاسی سرگرمیوں پر مکمل بابندی لگانے اور زورزبردستی کے نتیجے میں لوگوں کی زبانوں پر تالے چڑھانے کے بعد عمر عبدا للہ اور انکے آقا اگر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہے تو یہ انکی غلط فہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف خاکی وردی اور بیلٹ فورسز کے مظالم اور امتناعی احکامات کے نفاذ کا نتیجہ تھا کہ لوگ 2011میں سڑکوں پر نہیںآئے اور بھارت کی حکمرانی کے خلاف کوئی بڑا احتجاج نہیں کیا گیا۔ حریت ترجمان نے کہا کہ کشمیر پر بھارت کے فوجی قبضے کے 65سال پورے ہورہے ہیں اور اس عرصے کے دوران میں ایک دن کیلئے بھی یہاں کے لوگوں نے بھارت کی بالادستی کو دل سے قبول نہیں کیا ہے اور وہ حقِ خودارادیت کیلئے مسلسل جدوجہد کرتے رہے جبکہ اس جدوجہد میں کئی طرح کے مراحل اور نشیب وفراز بھی آتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ2011کے وقفے کو اگر کوئی تنازعہ کشمیر کے حل سے تعبیر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں زندہ رہنے والا انسان ہے جبکہ دنیا کی تاریخ اور کشمیریوں کے اندرون سے نابلد ہے اور یہ کہ اس نےآزادی کیلئے لڑی جانے والی جنگوں کا مطالعہ ہی نہیں کیا ہے۔ حریت ترجمان نے کہا کہ جہاں عمرعبدا للہ اور اس کے بیرونی آقا سالِ گزشتہ کے حالات کو اپنی کامیابی سے تعبیر کرتے ہیںوہاں کچھ کوتاہ نظر لوگوں کابھی یہ خیال ہے کہ کشمیر میں اب2010جیسی تاریخ کو دہرایا نہیں جاسکتا ہے اور یہ کہ کشمیری اب مایوس ہوچکے ہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو حالات کے رحم وکرم کے حوالے کردیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ایسا 1971میں پاکستان کے دولخت ہونے کے موقعے پر بھی کہا گیا تھا اور 1975میں اندرا عبداللہ گٹھ جوڑ کے وقت بھی یہی راگنی سنائی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ نوے کی دہائی میں عسکریت کے کمزور پڑجانے کے بعد بھی کچھ لوگوں نے کشمیریوں کو یہی سبق پڑھانا چاہا تھا اور 2008 کی عوامی تحریک کے بعد ہوئے اسمبلی الیکشن کے موقعے پر بھی مایوسی اور تھکاوٹ کی باتیں کی گئی تھیں۔ حریت ترجمان نے کہا کہ حالات کے الٹ پھیر نے ان تمام تر قیاس آرائیوں کو ماضی میں بھی غلط ثابت کردیا ہے اور مستقبل میں بھی کشمیریوں کے مجموعی طور سرینڈر کرنے کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جب تک جموں کشمیر پر بھارت کا فوجی قبضہ قائم ہے تب تک یہاں سیاسی غیر یقینیت بھی برقرار رہے گی اور اس غیریقینیت کے جاری رہتے ہوئے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہاں حالات کب اور کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔ حریت ترجمان نے دعویٰ کیا کہ 2011کے آخری دن بھی اگرآزادی پسندوں کی سیاسی سرگرمیوں سے پابندی ہٹادی جائے اور انہیںکھلے طور ایک سیاسی جلسہ بلانے کی اجازت دی جائے تو کشمیر کی سڑکیں2008 اور2010 کا نقشہ پیش کریں گی اور عمرعبداللہ والی حکومت کے سارے دعوے سراب ثابت ہوجائیں گے۔ حریت بیان میں کہا گیا کہ 2011 کو بین الاقوامی سطح پر اگرچہ مظاہرین کا سال قرار دیا گیا ہے اور اس سال میں عوامی احتجاج کے نتیجے میں کئی ممالک میں بڑے بڑے انقلابات بھی رونما ہوئے ہیں، لیکن جموں کشمیر میں تمام تر ریاستی پاور کا استعمال کرکے عوامی تحریک کو کچلنے کی کوشش کی گئی اور لوگوں کی خواہشات اور امنگوں کو فوج اور پولیس کے بل بوتے پر بے دردی سے دبانے پر سارا زور لگا دیا گیا۔ حریت ترجمان نے واضح کیا کہ 2011 ایک عارضی مرحلہ تھا اور 2012 میں حالات کو نسا رخ اختیار کرتے ہیں اس بارے میں کسی قسم کی پیشگوئی نہیں کی جاسکتی ہے۔ اعدادوشمار کی روشنی میں بات کرتے ہوئے حریت ترجمان نے کہا کہ 2011میں قائد تحریک سید علی شاہ گیلانی کی سیاسی سرگرمیوں پر مکمل طور پابندی عائد رہی اور انہیں عوام سے دور رکھنے کیلئے زیادہ تر اوقات اپنے ہی گھر میں قید کرکے رکھا گیا۔انہوں نے کہا کہ امسال وہ صرف دو بار جمعہ کی نماز ادا کرسکے اور انہیں پورے سال میں ایک بھی عوامی جلسہ کرنے کی باضابطہ اجازت نہیں دی گئی۔ ترجمان نے کہا کہ 2011میں 3300سے زائد نوجوانوں کو فرضی کیسوں کے تحت گرفتار کیا گیا، جن میں سے 345کے قریب کو کالے قانون پی ایس اے کے تحت جیل بھیج دیا گیا۔ گرفتار شدگان میں کم عمر طالبعلموں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل رہی اور حراست میں لئے جانے والے اکثر نوجوانوں کی پولیس تھانوں اور اذیتخانوں میں مارپیٹ بھی ہوتی رہی۔ حریت کانفرنس نے حقوقِ بشر کی عالمی تنظیموں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا سنجیدہ نوٹس لیں اور یہاں شہریوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرانے کیلئے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔
 
 
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر

کراچی سے