خرابی
  • فیڈ ڈیٹا اٹھانے میں خرابی
سال 2010ء کے اہم واقعات پر ایک نظر چھاپیے ای میل
ہفتہ, 01 جنوری 2011 22:57
سال 2010ء کا آغاز و اختتام جمعتہ المبارک کو ہوا‘ عالمی سطح پر اس سال کو عالمی مالیاتی بحران‘ دہشت گردی‘ مختلف خطوں میں پائی جانے والی بے چینی عالمی طاقتوں کی کشمکش‘ قدرتی آفات اور اہم واقعات کے حوالے سے اہمیت حاصل رہی۔ پاکستان میں بھی 2010ء بڑی اہمیت کا حامل رہا‘ حکومت نے کئی تاریخی فیصلے کئے اور ملک میں ہر سطح پر بہتری لانے کیلئے کوششیں جاری رکھیں۔ 

تفصیلات کے مطابق نئی صدی کی پہلی دہائی کے آخری سال میں مستقبل کی دنیا کے خدوخال نمایاں ہو کر سامنے آئے جن میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور طب کے میدان میں مالیکیولر سطح پر علاج معالجہ کی نئی راہیں قابل ذکر ہیں۔ پاکستان میں حکومت نے 2010ء کے دوران ملک میں ہر سطح پر بہتری لانے کی کوششیں جاری رکھیں وہیں حکومت نے کئی تاریخی فیصلے بھی کئے جن میں اٹھارہویں ترمیم کی منظوری‘ این ایف سی ایوارڈ‘ بلوچستان کے لئے پیکج‘ 19ویں ترمیم کی منظوری شامل ہے۔2010ء کو اگر خون آشام سال بھی کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ رواں سال بڑے پیمانے پر قدرتی آفات اور حادثات کا سامنا رہا جن میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں۔ 

سال 2010ء میں عالمی سطح پرجوواقعات رونما ہوئے ان میں جنگ سے تباہ حال عراق میں سال کی ابتداء جمہوری عمل سے ہوئی ، جنوری میں انتہائی سیکورٹی میں پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے جس میں تمام سیاسی ، سیکولر اور مذہبی جماعتوں نے حصہ لیا تاہم کوئی جماعت بھی واضح اکثر یت حاصل نہ کر سکی۔12جنوری کو ہیٹی میں 7درجہ شدت کے زلزلے سے 2لاکھ30ہزار افراد لقمہ اجل بنے۔25جنوری کو ایتھوپیاکا مسافر طیارہ بحرہ روم میں گرکر تباہ ہو گیا طیارے میں سوار 90مسافر ہلاک ہوئے ۔27فروری کو چلی میں تباہ کن زلزلے کے باعث 497افراد ہلاک ہوئے۔23مارچ کو جنوبی کوریا کا بحری جہاز سمندر میں غرق ہوا جس میں 46افراد کی ہلاکت ہوئی۔ 10 اپریل کو پولینڈ کے صدر لیخ کازنسکی کا طیارہ مغربی روس میں گر کر تباہ ہو گیا جس میں ان کی اہلیہ سمیت کم از کم اٹھاسی افراد ہلاک ہوگئے۔ 14اپریل کو آئی لینڈ میں آتش فشاں سے اٹھنے والے دھویں کے بادلوں کے باعث شمالی اور مغربی یورپ بھر میں فضائی سروس بری بر ح متاثر ہوئی جس سے معیشت کو بڑا نقصان پہنچا۔20 اپریل کو امریکی ریاست لوزیانا کے ساحل کے قریب خلیج میکسیکو میں سمندر کی تہہ میں تیل کی تلاش کے دوران بیس اپریل کو ایک دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں گیارہ افراد ہلاک اور سترہ زخمی ہوگئے۔ دھماکے سے ایک کنویں سے تیل کا رساوٴ شروع ہوگیا اور کئی ماہ تک لاکھوں بیرل تیل بہہ کر ساحل تک پہنچتا رہا۔ تیل کے اخراج کو امریکی ماحولیاتی تاریخ میں سب سے خوفناک واقعہ قرار دیا گیا ۔ 12مئی کو افریقی مسافر طیارہ لیبا کے ائرپورٹ پر رن وے پر گر کر تباہ ہوا جس میں طیارے میں سوار 103مسافر ہلاک ہوئے ،حادثے میں صرف ایک شخص زندہ بچا۔19مئی کو تھائی لینڈ میں جاری فوجی کریک ڈاؤن کا خاتمہ ہوا۔ کریک ڈاؤن کے دوران 91افراد ہلاک اور2100زخمی ہوئے۔

غزہ کے محصورین کیلےء امداد ی سامان لے جانے  بحری جہاز فریڈم فوٹیلا پر اسرائیلی فوجیوں کا حملہ بھی اس سال کا اہم واقعہ ہے۔ یہ واقہ کئی دنوں تک ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں کا موضوع بنا رہا۔ فلوٹیلا 21مئی کو دنیا بھر سے فلسطینیوں سے ہمدردی رکھنے والے سرگرم کارکنوں ، رضاکارو، صحافیوں اور استنبول سے امدادی سامان لیکر غزہ کے لئے روانہ ہوا تھا مگر غزہ پہنچے سے پہلے ہی اسرائیل کمانڈوز نے حملہ کر کے نو افراد کو ہلاک کر دیا۔ امداد ی رضاکاروں پر اس حملے کی دنیا بھر میں بھر پور مذمت کی گئی۔ 22مئی کو ائیر انڈیا کا طیارہ منگلور ائیرپورٹ پر گر کر تباہ ہوا ، حادثہ میں 158افراد مو ت کا شکار ہوئے صرف 8افراد زندہ بچے۔9جون میں کر غزستان میں کرغز اور ازبک کے درمیاں فسادات کے باعث سینکڑوں افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔11جون کو جنوبی افریقہ میں فیفا عالمی فٹ بال کپ کا انعقاد ہو ا، یہ ورلڈ کپ اسپین نے جیتا۔
پاکستان میں 29 جون کو شمال سے لے کر جنوب تک اور آزاد کشمیر میں بد ترین سیلاب نے تباہی مچا ئی، 1930کے بعد سے یہ اس خطے کا شدید ترین سیلاب تھا۔ سیلاب میں 1600سے زائد افراد ہلاک ، 2کروڑ سے زیادہ متاثر ہوئے اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی۔25جولائی کو وکی لیکس نے افغانستان جنگ کے حوالے سے امریکی کے 90ہزا ر خفیہ دستاویزات افشاں کی جس سے دنیا میں کھلبلی مچ گئی۔13اکتوبر کو چلی میں 33کاکن کان میں پھنس گئے جنہیں67دنوں کی کوششوں کے بعد زندہ کان سے نکالا گیا۔ اس واقعہ کے بعد ان کاکنوں کو ہیرو کا درجہ دیا گیا اور دنیا بھر میں ان کی پذیرائی ہوئی۔25اکتوبر کو انڈونیشیا میں زلزلے اور سونامی کے باعث 400سے زائد افراد لقمہ اجل بنے ۔4نومبر کو کیوبامیں طیارے کے حادثے میں 68مسافر ہلاک ہوئے۔11نومبر کو جنوبی کوریا میں جی20 کے رکن ممالک کا سربراہ اجلاس منعقد ہوا۔ 13نومبر کو میانمر کی جمہوریت پسند رہنما آنگ سان وسوچی کو رہا کر دیاگیا۔20نومبر کو لزبن میں ہونے والے شمالی بحراوقیانوس ممالک کی تنظم نیٹو کے سربراہ اجلاس میں افغانستا ن سے نیٹو افواج کے2014سے انخلا ء کا اعلان کیا گیا۔ 22نومبر کو کمبوڈیا میں سالانہ تہوار کے دوران بھگڈر مچ جانے سے 347افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔23نومبر کو شمالی کوریا نے یون پیانگ جزیرہ پر بمباری کی ۔ جس کے جواب میں جنوبی کوریا نے فوجی جنگی مشقوں کا انعقاد کیا۔ جزیرہ نما کوریا میں تناؤ میں اضافہ ہو ا۔ اقوام متحدہ نے کوریا جنگ کے بعداسے بہت سنگین واقعہ قرار دیا۔28نومبر کو وکی لیکس نے ایک با ر پھر امریکہ کے250000خفیہ سفارتی پیغامات افشاں کئے جس سے دنیا میں ہلچل مچ گئی۔

استنبول 23 دسمبر سے تین روز تک بڑی اقتصادی اور سیاسی سرگرمیوں کا محور بنا رہا۔ یہاں وسطی ایشائی ریاستوں کی علاقائی اقتصادی تعاون تنظیم کی گیارھویں سربراہ کانفرنس ہوئی۔ جس میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے علاوہ افغانستان، مشرق وسطیٰ اور اایشیائی ملکوں کے سربراہوں نے بھی شرکت کی۔سال کے آخری دنوں میں مغربی یورپ میں برفباری کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کے کرسمس اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ گزارنے کے منصوبے بری طرح متاثر ہوئے اور سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
 
 
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر

کراچی سے