|
پاکستان میں مقدس گائے لیکن دنیا میں ریٹائرڈ فوجی سربراہان پر مقدمات چلے |
|
|
|
منگل, 05 اکتوبر 2010 11:27 |
|
لاہور(رپورٹ:…صابر شاہ) پاکستان میں ریٹائرڈ فوجی سربراہان چاہے کتنے ہی سنگین جرائم میں کیوں ملوث نہ ہوں لیکن ان کے ساتھ مقدس گائے جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ لیکن اس صورتحال کے برعکس دنیا میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جس میں ریٹائرڈ فوجیوں کو ان کے جرائم کی سزائیں دی جاتی رہی ہیں اور صرف 1945 سے 1946ء کے نوریم برگ ٹرائلز میں نازی جرمنی کی فوجی قیادت سے تعلق رکھنے والے تقریباً 6/ اہم ترین فوجیوں پر ہولوکاسٹ سمیت مختلف الزامات کے تحت مقدمات چلائے گئے۔ نوریم برگ کی عدالتی سماعت کے تقریباً ساڑھے 6/ دہائیاں بعد، جس اہم اور نمایاں فوجی شخصیت کو قانون کے کٹہرے تک لایا گیا ان میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) حسین محمد ارشاد (بنگلادیش کے آرمی چیف جو بعد میں صدر بن بیٹھے)، شرت فونسیکا (سری لنکا کے سابق آرمی چیف)، جنرل رابرٹو وایولا( ارجنٹائن کے سابق آرمی چیف جو بعد میں صدر بن بیٹھے)، لیفٹیننٹ جنرل لیوپولڈو گیل ٹیاری (ارجنٹائن کے سابق کمانڈر ان چیف جو بعد میں صدر بن بیٹھے)، کرسٹینو نکولائیڈس (ارجنٹائن کے سابق آرمی چیف)، ایمالیو ایڈورڈا مسیرا ( ارجنٹائن کی بحریہ کے سابق کمانڈر ان چیف)، جنرل مینوئل نوریگا (پناما کے فوجی حکمران)، راسم ڈیلیچ (بوسنیا کے سابق آرمی چیف)، فوسٹن نیام واسا (روانڈا کے آرمی چیف) اور موم شیلو پیریاسک (یوگوسلاویہ کے سابق آرمی چیف) ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ مذکورہ بالا آرمی سربراہان کی اکثریت نے اپنے ملک میں طاقت اور ووٹ کے ذریعے صدر کا عہدہ بھی سنبھال لیا تھا۔ مذکورہ بالا ناموں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ارجنٹائن میں سب سے زیادہ یعنی چار آرمی سربراہان اور ایک نیوی کمانڈر ان چیف کو ”گندے کھیل“ میں مجرمانہ کردار ادا کرنے پر سزائیں سنائی گئیں۔ 1970ء سے لے کر 1983ء تک ملک میں یہ وہ دور (Dirty War) تھا جب جنوبی امریکا کے اس ملک میں ریاستی سرپرستی میں تشدد، ٹارچر اور قتل جیسے واقعات معمول بنے ہوئے تھے۔ ڈرٹی وار کے دوران تقریباً 30/ ہزار ارجنٹائنی باشندے ہلاک ہوئے یا پراسرار انداز سے غائب ہوگئے۔ بنگلادیش کے سابق آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل (ر) حسین محمد ارشاد 1986ء میں ملک کے صدر منتخب ہوئے اور وہ 1991ء تک اس عہدے پر براجمان رہے۔ صدر کے عہدے سے ہٹائے جانے تک وہ تین مرتبہ پارلیمانی انتخابات میں بھی کامیاب ہوئے۔ 1990ء میں وہ گرفتار ہوئے لیکن اپنی گرفتاری کے 11/ برس بعد ان پر ایک اور الزام کے تحت فرد جرم عائد کی گئی۔ انہیں جنتا ٹاور کیس کے تحت سزا سنائی گئی۔ 1991ء سے 1996ء کے انتخابات کے دوران، ارشاد نے جیل سے الیکشن میں حصہ لیا اور پانچ مختلف حلقوں سے ہر مرتبہ کامیاب ہوئے۔ انہیں 1997ء میں رہا کیا گیا۔ اگرچہ ارشاد کو عمومی طور پر آمر فوجی حکمران کہا جاتا ہے، انہوں نے 2009ء میں ماضی کی تمام غلطیوں پر معافی مانگی اور عوام سے کہا کہ وہ بھی انہیں معاف کردیں۔ 26/ اگست 2010ء کو سنائے جانے والے تاریخی فیصلے میں بنگلادیش کی ہائی کورٹ نے آئین کی اس 7ویں ترمیم کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جس کے تحت ارشاد کے آمرانہ دور حکمرانی کو قانونی قرار دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ارشاد کو ایک مرتبہ پھر عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ سری لنکا کے سابق آرمی چیف شرت فونسیکا نے 2009ء میں تامل ٹائیگرز کا خاتمہ کرکے ملک سے 26/ برس پرانی خانہ جنگی کے خاتمے میں مفید کردار ادا کیا تھا۔ تاہم بعد میں ان کے اور سری لنکن صدر مہیندا راج پکشے کے درمیان کوئی تنازع ہوگیا جس کے نتیجے میں انہوں نے صدر راج پکشے کو 2010ء کے صدارتی انتخابات میں چیلنج کردیا۔ فونسیکا الیکشن ہار گئے۔ وہ دسمبر 2005ء سے 2009ء تک فوج کے سربراہ رہے اور تامل ٹائیگرز کی شکست کے چند ماہ بعد صدر راج پکشے نے انہیں چیف آف ڈیفنس اسٹاف مقرر کردیا۔ تاہم، فونسیکا نے اس اقدام کو خود کو نظرانداز کئے جانے کی ایک کوشش سمجھا۔ ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد فونسیکا نے 2010ء کے صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار اپنی نامزدگی کا اعلان کردیا اور صدر راج پکشے کیلئے مشکل ترین اپوزیشن امیدوار بن گئے۔ 26/ جنوری 2010ء کو مہندا راج پکشے نے انہیں شکست دیدی۔ انہیں 57/ فیصد ووٹ ملے۔ انتخابی شکست کے فوراً بعد فونسیکا کو 8/ فروری 2010ء کو گرفتار کرلیا گیا اور عسکری جرائم میں ملوث ہونے پر ان کا کورٹ مارشل کیا گیا۔ پہلے کورٹ مارشل میں جرم ثابت ہونے پر صدر راج پکشے نے 14/ اگست 2010ء کو فونسیکا سے تمام فوجی اعزازات واپس لینے کی منظوری دی۔ ستمبر 2010ء میں سنائے جانے والے عدالتی فیصلے میں فونسیکا کو 30/ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے فوجیوں کو بھرتی کے قوانین میں رد و بدل کیا۔ ارجنٹائن کے سابق آرمی چیف رابرٹو ایڈورڈو وایولا نے بھی 29/ مارچ سے 11 دسمبر 1981ء تک ملک کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وایولا کو گرفتار کرکے فوجی دور حکمرانی کے دوران (ڈرٹی وار کا عرصہ) ان پر حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا مقدمہ چلایا گیا اور 17/ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ 1990ء میں انہیں اور دیگر فوجیوں کو ارجنٹائن کے سابق صدر کارلوس مینم نے معافی دیدی۔ ارجنٹائن کے سابق کمانڈر انچیف لیفٹیننٹ جنرل لیوپولڈو گیل ٹیاری 1981ء سے 1982ء تک ملک کے صدر رہے۔ فالک لینڈ آئی لینڈ پر برطانیہ کی جانب سے دوبارہ قبضہ کرنے کے بعد انہیں فوراً ہٹا دیا گیا۔ ارجنٹائن کے فوجی حکمرانی کے دیگر ارکان سمیت انہیں بھی 1983ء میں گرفتار کرلیا گیا اور فالک لینڈ آئی لینڈ پر ”ڈرٹی وار“ کے دوران حقوق انسانی کی خلاف ورزی کرنے اور بد انتظامی کے الزامات عائد کئے گئے۔ ارجنٹائن کی فوج کی داخلی تحقیقاتی رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی جنرل لیوپولڈو گیل ٹیاری سے تمام فوجی اعزازات واپس لے لیے جائیں، ملازمت سے برطرف کیا جائے اور بچوں اور مخالفین کے قتل عام پر (فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے) انہیں موت کی سزا دی جائے۔ 1986ء میں انہیں 12/ سال قید کی سزا سنائی گئی اور 1989ء میں ان سے تمام اعزازات چھین لیے گئے۔ لیوپولڈو گیل ٹیاری ان فوجی افسران میں شامل تھے جنہیں صدارتی معافی ملی۔ ارجنٹائن کے ایک اور سابق آرمی چیف کرسٹینو نکولائیڈس کو ”ڈرٹی وار“ کے دوران تشدد اور پراسرار گمشدگیوں کے الزامات کے تحت 2007ء میں 25/ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ فہرست یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ارجنٹائن کے ایک اور آر می چیف رافیل جورگ ویڈیلا بھی ان فوجیوں میں شامل ہیں جن پر ”ڈرٹی وار“ کے دوران حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے الزام کے تحت فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ ویڈیلا پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے اپنی جانب سے قائم کردہ غیر قانونی حراستی مراکز پر قید خواتین کے نومولود بچوں کو چوری کرایا۔ 85/ برس کے جنرل ویڈیلا کو 1975ء کو کمانڈر ان چیف مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے 1976ء سے 1981ء تک ملک کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ نہیں 1985ء میں فوج سے فارغ کرکے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ ویڈیلا کو بھی صدر کارلوس مینم نے معافی دی تاہم پانچ برس انہوں نے جیل میں گزارے۔ 1998ء میں جب ان پر یہ الزام ثابت ہوگیا کہ انہوں نے بچے چوری کرائے؛ تو جج نے انہیں 38/ دن کیلئے دوبارہ جیل بھجوادیا۔ قسمت نے ان کا ساتھ نہ دیا اور وفاقی عدالت نے 2007ء میں ویڈیلا کی صدارتی معافی کالعدم قرار دیدی اور ان کی سزائیں بحال کردیں۔ اب ارجنٹائن میں ویڈیلا کو کوئی بھی قانونی صدر نہیں سمجھتا اور ان کی تصاویر ملٹری اسکولز سے ہٹائی جا چکی ہیں۔ 5/ جولائی 2010ء کو ویڈیلا نے ”ڈرٹی وار“ کے دوران ہونے والی تمام زیادتیوں کی ذمہ داری قبول کرلی۔ 1983ء میں ارجنٹائن کی بحریہ کے سابق کمانڈر ان چیف ایمالیو ایڈورڈو مسیرا کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ مسیرا کو مکمل ایڈمرل کے عہدے پر 1974ء میں مقرر کیا گیا تھا تاکہ وہ ارجنٹائن کی بحریہ کے کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے عہدہ سنبھال سکیں۔ انہیں بھی 1990ء میں صدر کارلوس نے معافی دیدی۔ 1998ء تک مسیرا آزاد تھے لیکن ایک مرتبہ پھر انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام کے تحت جیل بھیج دیا گیا۔ 2005ء میں مسیرا بیمار ہوگئے۔ ہوش و حواس میں نہ ہونے کے باعث یہ اعلان کیا گیا وہ ان واقعات کے قانوناً ذمہ دار نہیں ہیں۔ نتیجتاً ان کے خلاف تمام مقدمات معطل ہوگئے۔ جنرل مینوئل نوریگا 1983ء سے 1989ء تک ملک کے فوجی حکمران رہے۔ 1989ء میں امریکا کی جانب سے پناما پر حملے کے بعد انہیں ہٹا دیا گیا اور انہیں جنگی قیدی بنا دیا گیا۔ انہیں بعد میں امریکا لے جایا گیا جہاں 1992ء میں ان پر منشیات فروشی، گینگ چلانے اور منی لانڈرنگ کے 8/ مختلف الزامات عائد کئے گئے۔ دوران سماعت، نوریگا نے امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کیلئے کئے گئے کاموں کے فریم ورک کے تحت اپنے اقدامات کا دفاع کیا۔ سماعت کے بعد نوریگا نے امریکا کی کورٹ آف اپیلز میں درخواست دائر کردی جس نے فیصلے میں نوریگا کو رعایت دی۔ اہم، تاہم، کورٹ آف اپیلز نے فیصلہ معطل کرنے سے انکار کردیا۔ 16/ ستمبر 1992ء کو نوریگا کو 40/ سال قید کی سزا سنائی گئی (جو بعد میں 30/ سال کردی گئی)۔ نوریگا کی سزا 2007ء کے ماہِ ستمبر میں ختم ہوئی۔ اس سے قبل پناما اور فرانس قتل اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت امریکا سے نوریگا کی حوالگی کی درخواست کرچکے تھے۔ اپریل 2010ء میں فرانس کی حوالگی کی درخواست امریکا نے منظور کرلی اور فرانسیسی عدالت نے نوریگا کو قصوروار قرار دیدیا۔ جولائی 2010ء میں انہیں 7/ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بلقان کی جنگ کے دوران ساراجیوو، سربرینکا اور زغریب میں جنگی جرائم کے الزامات کے تحت اکتوبر 2008ء میں یوگوسلاویہ کے آرمی چیف موم شیلو پیریاسک پر دی ہیگ (ہالینڈ) میں اقوام متحدہ کے ٹریبونل میں مقدمہ چلایا گیا۔ ان پر نسل کشی، قتل عام اور سربرینکا میں بدسلوکی کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ سربرینکا میں 1995ء کے دوران ہزاروں مسلمانوں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ اس مقدمہ کا فیصلہ آنا باقی ہے۔ اقوام متحدہ کے ٹریبونل میں بوسنیا کی فوج کے سابق آرمی چیف راسم ڈیلیچ کو 2009ء میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ ان پر سابق یوگوسلاویہ میں قتل، زنا اور تشدد کے الزامات تھے۔ راسم ڈیلیچ 1993ء سے ستمبر 2000ء تک بوسنیا ہرزیگووینا کے فوجی کمانڈر تھے۔ ان پر عائد کردہ الزامات میں ایک الزام یہ بھی تھا کہ انہوں نے ان افراد کو سزائیں نہیں دیں جنہوں نے بوسنیائی کروئٹس سویلین افراد کو وسطی بوسنیا میں قتل کیا۔ مئی 2009ء میں راسم ڈیلیچ کو عبوری طور پر رہا کیا گیا؛ ان کا مقدمہ زیر التواء ہے۔ اپیل دائر کرنے کے ایک سماعت بعد اپریل 2010ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔ اسی دوران، اسپین نے حال ہی میں جنوبی افریقا سے کہا ہے کہ وہ روانڈا کی فوج کے سابق سربراہ فوسٹن نیام واسا کو اس کے حوالے کرے۔ نیام واسا پر الزام ہے کہ انہوں نے 1990ء کے دوران روانڈا میں چار ہسپانوی باشندوں کو قتل کرادیا تھا۔ 2008ء میں اسپین کی نیشنل کورٹ نے نیام واسا پر روانڈا کے 1994ء کے قتل عام (جس میں تقریباً 8/ لاکھ افراد مارے گئے تھے) کے سلسلے میں قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کئے۔ ہسپانوی عدالت نے سابق آرمی چیف پر 1994ء میں ہسپانوی مبلغوں اور تین سال بعد تین ہسپانوی امدادی کارکنوں کے قتل کا بھی الزام عائد کیا۔ |