خرابی
  • فیڈ ڈیٹا اٹھانے میں خرابی
اسپین میں مسجد سے مشابہہ "مکہ" نامی نائٹ کلب چھاپیے ای میل
پیر, 06 ستمبر 2010 04:18
اسپین(پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام) اسپین کےساحلی شہر"مورسیا" سے 105 کلومیٹر دور"اگیلاس" کے مقام پر"مکہ کلب" کے نام سے قائم عمارت بظاہر دیکھنے میں جامع مسجد اور مسلم فن تعمیر کا ایک شاہکار معلوم ہوتی ہے۔ عمارت کے اوپر تعمیر کردہ سر سبز گنبد، ستون، در و دیوار، نقش و نگار اور منبر و محراب غرض ہر چیز بظاہر یہ گواہی دیتی ہے کہ ہو نہ ہو یہ ایک جامع مسجد ہے۔
       
       لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ "مسلمانوں کے مقدس ترین مقام "مکہ"کے نام سے موسوم یہ عمارت مسجد نہیں بلکہ اسپین کا ایک "نائٹ کلب" ہے۔ یہ مسلمانوں کے تاریخی فن تعمیر کا نمونہ نہیں بلکہ یورپ کی اسلام اور مسلمان دشمنی کا ایک بڑا ثبوت اور مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر کی موت کی علامت ہے۔ خیال رہے کہ مذموم نائٹ کلب کی تعمیر پر 20 لاکھ 70 ہزار ڈالر لاگت آئی ہے۔
       
 
      
       العربیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسپین کے مرکز میں اس نائٹ کلب کی تعمیر اور افتتاح پر کچھ مقامی مسلمانوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا ہے لیکن اس احتجاج کی گونج "مورسیا" اور "اگیلاس" سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ سب سے پہلا احتجاج ایک مراکشی شہری کی جانب سے کیا گیا۔ 
       
       اس شہری کو تھیٹر کی مالک کمپنی کی جانب گذشتہ 18 جولائی کو اس میں ملازمت کی پیشکش کی گئی۔ جب یہ مسلمان شہری اگیلاس میں اس کلب کے پاس پہنچا تو یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ کمپنی نے اس کا نام مسلمانوں کے مقدس شہر"مکہ" کے نام سے موسوم کر رکھا ہے جبکہ اس کا اندرونی اور بیرونی ڈیزائن مکمل ایک مسجد کی طرح ہے۔ اس نے فورا کمپنی کی طرف سے ملازمت کی پیشکش ٹھکرا دی۔ یہ پہلا احتجاج تھا جو اس مکروہ سازش کے خلاف ایک شہری کی طرف سے کیا گیا۔
       
       مراکشی شہری نے خود احتجاج کرنے کے ساتھ ساتھ اسپین میں مسلمان تارکین وطن کو ہسپانوی کمپنی کے اس مکروہ اقدام کی طرف توجہ دلائی تو اس کے باوجود نہایت محدود سطح پر چند افراد نے نائٹ کلب کے صرف نام اور اس کے ڈیزائن پر اپنی تشویش اوربے چینی کا اظہار کیا۔
       
       اسپین میں نائٹ کلب کے خلاف احتجاج اسپین کی اسلامی جماعتوں کے اتحاد کے چیئرمین محمد حامد علی کی جانب سے کیاگیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے بھی رسمی طورپر صرف کلب کے نام اور اس کے ڈیزائن کو قابل اعتراض قرار دیا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق جولائی اور اگست کے دو ماہ میں نائٹ کلب میں 01 لاکھ 30 ہزار افراد ڈانس میں حصہ لے چکے ہیں۔
       
       مکہ نائٹ کلب کے خلاف احتجاج کی ایک خفیف سی آواز اسپین کے ایک معروف وکیل انٹونیو گارتھیا بیٹیٹی کی جانب سے بھی بلند کی گئی لیکن ان کی آواز تھیٹر کے لاٶڈ اسپیکروں سے گونجتی گانوں کی آواز کے سامنے دب کر رہ گئی۔ انہوں نے احتجاج ضرور کیا لیکن ان کے احتجاج کو اسپین کے میڈیا نے بھی کوئی اہمیت نہیں دی۔ 
       
       سوائے چند ایک چھوٹے اخبارات اور اسپین کے جنوب مشرقی شہر"مورسیا" میں ان کے احتجاج کی خبر شائع ہوئی۔ واضح رہے کہ مورسیا اسپین کا وہ علاقہ ہے جہاں عرب اور مسلمان تارکین وطن کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ ہے، ان میں اکثریت مراکشی شہریوں کی ہے۔
       
       اپنے ایک بیان میں ہسپانوی وکیل کا کہنا تھا کہ "مکہ" مسلمانوں کے ایک مقدس شہر کی علامت ہے۔ جبکہ ڈانس مسلمانوں کے نزدیک ایک ناپسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ آیا کمپنی نائٹ کلب کے اس نام کا انتخاب کیوں کیا۔ کیونکہ اس نام کے ساتھ کلب کا قیام ایک منفی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ مکہ کو کسی دوسری بے ضرر چیز کے نام سے ساتھ تو ملایا جاسکتا ہے لیکن اسے نائٹ کلب کے لیے موسوم کرنا مسلمانوں کی دلآزاری کے سوا کچھ نہیں۔
       
       
       کلب کا اندر سے مشاہدہ کرنے والے ایک مراکشی مسلمان شہری زبون عربی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کلب کے اندر س کی آرائش وزیبائش کے علاوہ ستون، گنبد اور منبر بھی موجود ہیں، جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ سارا انتظام ایک مسجد کا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ جب میں کلب کے اندرونی کیفیت اور منظردیکھا تومجھے یہ سب کچھ دیکھ کر "ہتک" اور شرمندگی محسوس ہوئی۔ زبون کا کہنا ہے کہ تھیٹرکے کے اندر موجود منبر کے سامنے اور ارد گرد نیم عریاں لباس میں ڈانس کرتی اور فحش حرکات کے ساتھ حیا باختہ گانے گانےکا منظرنہایت دل دہلا دینے والا ہوتا ہے۔
       
       
       متنازعہ نائٹ کلب کافی پرانا ہے اس کا یہ نام بھی پرانا ہے۔ اسے نوے کی دہائی میں مالی مشکلات کے باعث بند کردیا گیا تھا۔ تاہم دس سال قبل اسے دوبارہ کھولا گیا اور اس کی تعمیر ومرمت کا کام ایک اسپینی کمپنی کو دیا گیا، جس نے اس کا نیا ڈیزائن ایک عام عمارت کے بجائے مسجد کے طرز پر بنایا تاکہ اندرون اور بیرون ملک سے اس کے نام کی شہرت کی وجہ سے لوگ اس طرف مائل ہوسکیں۔توسیع کے بعد اب اس میں 3000 افراد کی گنجائش موجود ہے۔
       
       مورسیا شہر کی انتظامیہ نئے ڈیزائن کے تحت کلب کے افتتاح کی اجازت دینے سے گریزاں تھی، تاہم کلب کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے افتتاحی تقریب سے دو روز قبل شہری انتظامیہ سے اس کی اجازت حاصل کرلی تھی۔ العربیہ نے کلب کی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم کسی ذمہ دارشخص کے ساتھ رابطہ نہیں ہوسکا۔ ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تھیٹرانتظامیہ کا کہنا ہے کہ افتتاحی تقریب میں اندرون اور بیرون ملک سے 14 ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔
 
 
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر

کراچی سے