|
2011ءمیں امریکی سی آئی اے اپنی مہنگی ترین ڈرون مہم کے ذریعے صرف چار القاعدہ کمانڈروں کو نشانہ بنا سکی :ڈرون حملوں پرکانفلکٹ مانیٹرنگ سنٹر کی رپورٹ |
|
|
|
اتوار, 08 جنوری 2012 13:08 |
اسلام آباد(پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام)کانفلکٹ مانیٹرنگ سنٹر نے اپنی ایک رپورٹ میں قرار دیا ہے کہ 2011ءمیں امریکی سی آئی اے اپنی مہنگی ترین ڈرون مہم کے ذریعے صرف چار القاعدہ کمانڈروں کو نشانہ بنا سکی ہے۔ایک سال میں چند جنگجو کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیڑ ھ ارب روپے کی رقم صرف میزائلوں پر پھونک دی گئی ۔سی آئی اے کے ملکی اور غیر ملکی ایجنٹوں کے خلاف آئی ایس آئی کی کارروائیوں کے بعد امریکا کو خفیہ معلومات کے حصول میں شدید دشواری کا سامنا‘ امریکا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے بعد ڈرون حملوں میں 43 فیصد جبکہ ہلاکتوں میں 35 فیصد کمی آئی‘ جنوبی وزیرستان میں حملے بڑھ گئے‘ 2011 میں 75 ڈرون حملوں میں 609 افراد ہلاک ہوئے۔2004ءسے اب تک ہونے والے حملوں کی مجموعی تعداد تین سو سے بڑھ گئی2661 افراد مارے جا چکے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں قائم آزاد تحقیقاتی ادارے کانفلکٹ مانیٹرنگ سنٹر نے جو ڈرون حملوں پر مسلسل نظر رکھتا ہے اپنی سالانہ رپورٹ میں2011 ءکے دوران پاکستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کا جائزہ پیش کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کی مہنگی ترین اور متنازعہ ترین مہم کے دوران پورے سال میں القاعدہ کے صرف چار رکمانڈروں کو نشانہ بنایا جا سکا ہے۔سی آئی اے نے گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں 75 حملوں میں609۔ افراد کو ہلاک کیا۔ ان میں سے صرف تین عرب ‘ ایک برطانیہ کا انتہائی مطلوب جنگجو اور چار مقامی طالبان کے مختلف گروہوں کے سرکردہ کمانڈر تھے۔سال 2011 ءکے دوران سی آئی اے اور پاکستانی آئی ایس آئی کے درمیان تعاون ایک دوسرے کی مخالفت اور مخاصمت میں بدل گیا۔لاہور میں دو پاکستانیوں کو قتل کرنے والے سی آئی اے کے ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری اورایبٹ آباد میں اسامہ بن لاد ن کے خلاف آپریشن کے بعد آئی ایس آئی نے سی آئی اے کے مقامی اور غیر ملکی ایجنٹوں کے کے کئی سیل بے نقاب کر دیئے۔جس کی وجہ سے امریکی ایجنسی کو شمالی اور جنوبی وزیرستان میں انسانی انٹیلی جنس (Human Intelligence) سے محروم ہونا پڑا جو ڈرون حملوں کے مﺅثر ہونے میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔آئی ایس آئی کے ساتھ تنازعہ کے دوران سی آئی اے نے2011 ءمیں کئی ایسے ڈرون حملے بھی کیے جن کا مقصد جنگجوﺅں کا خاتمہ نہیں بلکہ پاکستان کو سبق سکھانا تھا۔2011 ءمیں یہ بات بھی دیکھنے میں آئی کہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور سی آئی اے کے درمیان پاکستان کے ساتھ تعلقات اور ڈرون حملوں کے اوقات کے بارے میں شدید اختلافات پائے گئے۔امریکی ایجنسی نے اپنی ہی حکومت کی پبلک ڈپلومیسی کو کئی مواقع پر کامیابی سے نقصان پہنچایا۔کانفلکٹ مانیٹرنگ سنٹر کے اعداد وشمار کے مطابق 2004ءسے اب تک ہونے والے ڈرون حملوں کی تعداد 303 ہو چکی ہے ۔ان حملوں میں 2661 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔2010 ءکے مقابلے میں 2011 ءکے دوران ڈرون حملوں کی تعداد میں 43 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں 35 فیصد کمی آئی ہے۔2010 ءڈرون حملوں کی تاریخ کا مہلک ترین سال تھا جب 132 ڈرون حملوں میں938 افراد مارے گئے تھے۔2011ءکے دوران جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔اس سے پہلے جنوبی وزیرستان میں بہت کم ڈرون حملے ہوتے تھے۔اس کا اندازا اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 2010 ءمیں ہونے والے 132ڈرون حملوں میں سے صرف9 حملے جنوبی وزیرستان میں ہوئے تھے۔2011 میں یہ تعداد بڑھ کر 23ہو گئی ۔گویا 60فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔شمالی وزیرستان میں 50جبکہ کرم ایجنسی میں 2 خود کش حملے کیے گئے۔امریکی ڈرون طیاروں نے 2011ءکے دوران پاکستانی علاقے میں 242 ہیل فائر میزائل فائر کیے۔38گھر ‘37 گاڑیاں ‘ ایک مدرسہ اور ایک کیمپ تباہ ہوا۔ایک ہیل فائر میزائل کی قیمت 68ہزار امریکی ڈالر ہے۔یوں سی آئی اے نے ایک سال میں ڈرون طیاروں کے صرف ایمونیشن پر ایک کروڑ ‘ چونسٹھ لاکھ ڈالر (ڈیڑھ ارب پاکستانی روپے) صرف کر دیئے۔2011ءمیں ایک مشتبہ شخص کو ہلاک کرنے پر اوسطاََ 27ہزار امریکی ڈالر (چوبیس لاکھ پاکستانی روپے ) خرچ ہوئے۔اگر ڈرون طیاروں کے ایندھن ‘ عملے کی تنخواہوں‘ انتظامی اور سیٹیلائیٹس کے اخراجات شامل کر دیئے جائیں تو ایک مشتبہ جنگجو کو ہلاک کرنے کی قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔یہ امریکی ٹیکس دہندگان کے لیے تشویش کا باعث ہو سکتا ہے کہ صرف چار القاعدہ اور چار طالبان کمانڈروں کو ہلا ک کرنے کے لیے اتنی بھاری رقم پھونک دی گئی اور اس دوران جنگ کے ایک اہم اتحادی پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی بگاڑ لیے گئے۔امریکی دعووں کے برعکس کہ گزشتہ 8سال کے دوران صرف پچاس عام شہری ڈرون حملوں میں مارے گئے ہیں ایک برطانوی ادارے بیورو آف انویسٹی گیٹو جرنلزم نے انکشاف کیا ہے کہ کم از کم 391 اور زیادہ سے زیادہ 780 عام شہری جن میں کم ازکم 175 بچے بھی شامل ہیں مارے جا چکے ہیں۔کانفلکٹ مانیٹرنگ سنٹر پہلے سے اپنی کئی رپورٹوں میں اس بات کو اجاگر کر چکا ہے کہ عام شہریوںکی ہلاکتوں کو جان بوجھ کر چھپایا جا رہا ہے۔ اگرچہ پاکستانی حکومت بظاہر ڈرون حملوں کی مخالفت کرتی ہے لیکن اس کے ’گمنام‘ سیکیورٹی حکام نے 2011 ءکے دوران بھی ڈرون حملوں کے بارے میں غلط معلومات جاری کرنے کا اپنا مشکوک کردار جاری رکھا۔حکومت ڈرون حملوں میں مرنے والے عام شہریوں اور جنگجوﺅں کا جامع ریکارڈ مرتب کرنے کی کوئی پالیسی وضع کرنے میں بھی ناکام رہی۔ڈرون حملوںمیں مرنے والے عام شہریوں کے لواحقین کی امداد کا بھی کوئی جامع پروگرام موجود نہیں تاہم 17مارچ کو قبائلی امن جرگہمیں مارے جانے والے اراکین کے لواحقین کے لیے فی کس 3لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا گیا۔2011ءمیں ڈرون حملوں کے خلاف عوامی مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا ۔عمران خان نے پشاور‘ کراچی اور اسلام آباد میں کامیاب دھرنے دیئے جبکہ معاشرے کے ہر طبقے نے اپنے اپنے طور پر ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کیا۔عوامی احتجاج کی گونج پارلیمنٹ کے ایوانوں میں بھی پہنچی اور قومی اسمبلی‘ سینیٹ‘ پنجاب اسمبلی اور خیبر پختونخواہ اسمبلی نے بھی ڈرون حملوں کے خلاف قراردادیں پاس کیں۔2011ءکے دوران ڈرون حملوں کے خلاف حافظ محمد سعید‘ مولانا سمیع الحق اور مسلم لیگ ن سے وابستہ پشاور کے ایک وکیل نے لاہور ہائی کورٹ‘ سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ میں آئینی ترامیم جمع کرائیں جن کی سماعت ابھی جاری ہے۔ڈرون حملوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی کوششوں نے سی آئی اے کو پریشان کیے رکھا اور پاکستان میں اس کے سٹیشن چیف جوناتھن بینک اورایک اور اعلیٰ عہدیدار جان رزو کوپاکستان چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔
|