خرابی
  • فیڈ ڈیٹا اٹھانے میں خرابی
پرویز مشرف اربوں ڈالرز کے مالک، لندن اور دبئی میں 7 سے 10 اکاؤنٹس چھاپیے ای میل
اتوار, 08 جنوری 2012 12:41
اسلام آباد(پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام)مفلسی سے امارات تک پہنچنے کے مشکوک لیکن کامیاب سفر کے دوران سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف، جو اب پاکستان کے عوام کے خود ساختہ مسیحا ہونے کے دعویدار ہیں، ارب پتی بن چکے ہیں۔ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ انہیں پیسے کون دیتا ہے اور وہ کس طرح اس قدر امیر و کبیر بن گئے ہیں لیکن بیرون ممالک مختلف بینکوں میں ان کے اربوں روپے کے اکاؤنٹس ہیں جبکہ ملک کے اندر اور باہر انہوں نے پہلے ہی بہت ساری پراپرٹی بھی خریدی ہے۔ واشنگٹن اور ریاض سے مطلوبہ ضمانتیں حاصل کرکے رواں ماہ کے آخر تک پاکستان آنے کے خواہش مند جنرل (ر) پرویز مشرف کے اپنی سیاسی مہم پر خرچ کرنے کیلئے بہت دولت ہے۔ جنرل (ر) مشرف کے ایک قریبی ذریعے نے دی نیوز کو بتایا کہ لندن اور دبئی کے بینکوں میں پرویز مشرف کے سات سے دس اکاؤنٹس موجود ہیں جن میں ڈالرز، پاؤنڈ اسٹرلنگ اور درہم موجود ہیں۔ اپنی خود نوشت میں پرویز مشرف نے اعتراف کیا تھا کہ ان کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا لیکن اب آج کے دور میں وہ پاکستان میں موجود اپنے ذاتی ملازمین کو کم از کم 5/ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ ادا کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، غیر ملکی بینکوں میں اکاؤنٹس کے علاوہ پرویز مشرف نے بیرون ممالک میں مالی فوائد کیلئے سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے۔ ذریعے کے مطابق صرف دبئی کی ایک آن لائن ٹریڈنگ سروس میں پرویز مشرف نے گزشتہ سال کے وسط میں 16/ لاکھ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے۔ مذکورہ ذریعے کے مطابق اس آن لائن کمپنی میں پرویز مشرف کا اکاؤنٹ نمبر AV77777 ہے۔ ابو ظبی کے یونین نیشنل بینک میں پرویز مشرف اور ان کی اہلیہ صہبا مشرف کا مشترکہ اکاؤنٹ (نمبر 4002000304) ہے جس میں گزشتہ سال کے وسط تک ایک کروڑ 70/ لاکھ درہم موجود تھے۔ اسی بینک میں دونوں کا ایک اور جوائنٹ اکاؤنٹ (نمبر 400200315) ہے جس میں گزشتہ سال تک پانچ لاکھ 35/ ہزار 325/ امریکی ڈالر موجود تھے۔ اسی بینک میں دونوں کا ایک اور اکاؤنٹ (نمبر 4003006700) ہے جس میں گزشتہ سال تک 76/ لاکھ اماراتی درہم موجود تھے۔ اسی بینک میں دونوں کے چوتھے اکاؤنٹ (نمبر 4003006711) میں 80/ لاکھ درہم موجود تھے۔ دونوں کے پانچویں اکاؤنٹ (نمبر 4003006722) میں 80/ لاکھ ڈالرز موجود تھے۔ صہبا مشرف اور پرویز مشرف کے چھٹے اکاؤنٹ (نمبر 4003006733) میں 80/ لاکھ درہم موجود تھے۔ ساتویں اکاؤنٹ (نمبر 4003006744) میں دونوں کے 80/ لاکھ درہم تھے۔ آٹھویں مشترکہ اکاؤنٹ میں ایک لاکھ تیس ہزار امریکی ڈالرز تھے۔ نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کے ابتدائی چند مہینوں بعد جنرل پرویز مشرف نے اپنے اثاثے ظاہر کیے تھے جن کے مطابق ان کے پاس بمشکل ہی نقد رقم اور ملک کے مختلف حصوں میں چند پلاٹ تھے۔ پرویز مشرف پاکستان کے مسٹر کلین (ایماندار شخص) ہونے کے دعویدار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پرویز مشرف ارب پتی کیسے بنے؟ جب یہی سوال پرویز مشرف کے ترجمان فواد چوہدری ایڈووکیٹ سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کی طرح پرویز مشرف کا ایک بھی بینک اکاؤنٹ خفیہ نہیں ہے۔ فواد چوہدری نے بتایا کہ جب آرمی چیف ریٹائر ہوتا ہے تو اسے پنشن کی مد میں تقریباً 400 سے 500 ملین روپے ملتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں بل کلنٹن اور پرویز مشرف دو ایسے مقرر ہیں جنہیں سب سے زیادہ رقم ادا کی جاتی ہے۔ انہیں لیکچر کی مد میں بھاری رقم ملتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پرویز مشرف کے بینک اکاؤنٹس میں اربوں کی دولت نہیں ہے۔
 
 
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر

کراچی سے