|
ریمنڈ ڈیوس واقعہ، ایبٹ آباد آپریشن، مہمند ایجنسی حملہ ،ڈرون حملے ،دہشت گردی ،قتل وغارت کے واقعات، 2011 پاکستان پر بھاری رہا،میموگیٹ سکینڈل منظرعام پرآیا،امریکہ کیساتھ تعلقات میں اتارچڑھاﺅکاسلسلہ جاری رہا |
|
|
|
ہفتہ, 31 دسمبر 2011 16:12 |
اسلام آباد(پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام)سال 2011ءمختلف حوالوں سے پاکستان پر بھاری رہا ،اسامہ بن لادن کی ہلاکت ،مہمند ایجنسی میں نیٹوکے ہیلی کاپٹروں کے حملہ میں پاکستان کی خودمختاری کو پامال کیاگیا، امریکی اہلکارریمنڈکے ہاتھوں دوپاکستانیوں کے قتل کا واقعہ رونماہوا،گورنرپنجاب سلمان تاثیراور وفاقی وزیراقلیتی امور شہباز بھٹی کو قتل کیا گیا،خروٹ آباد واقعہ، مہران بیس حملہ سمیت کئی سانحات رونماہوئے ،کراچی اور بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور قتل وغارت گری جاری رہی ،میموگیٹ کاسکینڈل منظرعام پر آیا،امریکہ کیساتھ تعلقات میں اتارچڑھاﺅکاسلسلہ جاری رہا۔جمعہ کو ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق براعظم ایشیا کے اہم ترین ملک پاکستان میں سال 2011 کے اندر بیشمار ایسے واقعات رونما ہوئے جس سے ملک مزید غیر مستحکم ہوا اور پاکستان کو کئی اندرونی و بیرونی خطرات کا سامنا رہا ، قتل، و غارت، دہشت گردی، مہنگائی ، بیرونی سازشیں اور اندرونی انتشار کے باعث سال بھر ملک کے حالات ناخوشگوار رہے۔ سال 2011 کا آغاز ہی ناخوشگوار واقعات سے ہوا، 4 جنوری کو پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کے محافظ ملک ممتاز حسین قادری نے ملک کے دار الحکومت میں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا، سلمان تاثیر کو 24 گولیاں لگیں جبکہ ان کے قاتل ممتاز حسین قادری کو عدالت2 بار سزائے موت سنا چکی ہے۔7 فروری کو راولپنڈی کی عدالت نے بینظیر قتل کیس میں پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دےدیا، 12 فروری کو عدالت نے مشرف کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا، 16 مارچ کو 20 کروڑ روپے دیت ادا کرنے کے بعد امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کو عدالت نے رہا کردیا اور وہ پاکستان سے روانہ ہوگیا، 6 اپریل کو عالمی اور ملکی شہرت یافتہ لسانیات کے ماہر اور سندھی ادب پہ بے انتہا کام کرنے والے ڈاکٹر نبی بخش بلوچ انتقال کرگئے، انہوں نے سندھی زبان سمیت اردو زبان سمیت ملک کے اہم تعلیمی اداروں میں اہم کام سر انجام دئے۔ اپریل کی 26 تاریخ کو کراچی میں بحریہ کی بسوں پر حملے کے باعث 4 اہلکار شہید ہوئے، 2 مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن سے القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت ہوئی ، اسامہ کا لاش سمندر برد کر دیا گیا، واقعہ سے ملکی سلامتی و خودمختیاری پر نئی بحث چھڑ گئی جو تاحال جاری ہے، 23 مئی کو کراچی میں پی این ایس مہران بیس پر دہشت گردوں کے 7 گھنٹے جاری رہے والے حملے میں 15 اہلکار شہید، 2 ہیلی کاپٹر تباہ اور تمام حملہ آور مارے گئے۔ 24 مئی کو کوئٹہ کے نواحی علاقے خروٹ آباد میں پولیس اور ایف سی اہلکاروں کے ہاتھوں 5 چیچن باشندوں کی ہلاکت ہوئی، 8 جون کو کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں نوجوان سرفراز شاہ کی ہلاکت ہوئی، 5 جولائی سے 9 جولائی تک ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دہشت گردوں کا راج رہا اور مسلسل 4 روز تک ٹارگٹ کلنگ ہوتی رہی۔کراچی میں پھر جولائی کے مہینے میں وقفے وقفے سے ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں ہوتی رہیں اور پورے شہرکی زندگی مفلوج رہی، سندھ کے دارالحکومت کراچی میں اگست میں بھی ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کا سلسلہ نہ رک سکا جب کہ پولیس اور رینجرز تماشائی بنی رہی ، 22 اگست کو سپریم کورٹ نے کراچی میں بدامنی کا از خود نوٹس لیا۔ پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو 26 اگست کو اغوا کیا گیا جو تاحال بازیاب نہیں ہو پایا، 27 اگست کو افغانستان کی جانب سے چترال میں پاکستانی چوکیوں پر حملے سے 40پاکستانی فوجی اہلکار شہید ہوئے ، 2 ستمبر سے سندھ میں شدید بارشیں ہوئیں جس کے بعد سیلاب آنے سے ایک کروڑ کے لگ بھگ افراد متاثر جب کہ 37 لاکھ سے زائد مکانات تباہ ہوئے، 7 ستمبر کو کوئٹہ میں ڈی آئی جی ایف سی کے گھر پر خودکش حملے سے 28 افراد ہلاک ہوئے۔ 18 نومبر کو امریکی شہری منصور اعجازکی جانب سے لکھا گیا میمو گیٹ اسکینڈل سامنے آیا، 22 نومبر کو حسین حقانی کی استعفیٰ منظور اور 23 نومبر کو شیری رحمن امریکہ میں پاکستانی سفیر مقرر کی گئیں، 26 نومبر کو نیٹو کی جانب سے مہمند ایجنسی میں سلالہ چیک پوسٹ پر کئے گئے حملے میں 24 اہلکار شہید ہوئے، 29 نومبر کو پاکستان نے دنیا کا سب سے چھوٹا ایٹمی ہتھیار بنا دیا۔صدر آصف علی زرداری 6 دسمبر کو اچانک علاج کیلئے دبئی روانہ ہوئے اور ملک میں حکومت کے خاتمے کی باتیں ہونے لگیں، 11 دسمبرکو امریکہ نے شمسی ایئر بیس خالی کردیا ، 15 دسمبر کو میمو سکینڈل کیس میں صدر زرداری اور وزارت دفاع کے علاوہ تمام فریقین نے جواب داخل کرادیا، 18 دسمبر کو حکومت کے خاتمے کی افواہیں ختم ہوئی اور صدر زرداری واپس ملک آگئے، 26 دسمبر کو امریکی سنیٹ کام کی جانب سے نیٹو حملے کی رپورٹ مکمل کرکے جاری کی گئی جبکہ 28 دسمبر کو پاکستانی عسکری قیادت نے یہ رپورٹ یکسر مسترد کری۔
|