|
متاثرین کے لیے 144 کیمپ لگائے گئے ،جن میں چالیس ہزار لوگ موجود ہیں،جماعةالدعوة کے کیمپوں میں بھی متاثرین کی بڑی تعداد مقیم ہے جہاں ان کے سحروافطار کا بندوبست کیا جارہا ہے،فلڈرپورٹ |
|
|
|
منگل, 16 اگست 2011 13:45 |
بدین،قصور، اسلام آباد( پاک میڈیااپ ڈیٹس ڈاٹ کام )طوفانی بارشوں و سیلاب سے 25لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیںسب سے زیادہ بدین اور ٹنڈو محمد خان کے اضلاع متاثر ہوئے صوبائی حکومت نے بدین اور ٹنڈو محمد خان کے اضلاع کی تمام جبکہ میرپورخاص کی چوبیس اور تھرپارکر کی تین یونین کونسلوں کو آفت زدہ قرار دیا ہے بدین کے قصبے پنگریو، کڑیو گھنور، کڈھن اور کھور واہ پانی کے گھیرے میں ہیں جبکہ تمام مواصلاتی نظام درہم برہم ہوچکا ہے دیہی علاقوں کی جانب جانے والی سڑکیں پانی میں بہہ گئی ہیںادھر صوبہ پنجاب میں قصور کے مقام پر دریائے ستلج میں سیلابی ریلے کے باعث دس سے پندرہ دیہات جبکہ سینکڑوں ایکڑ اراضی زیرِ آب آگئی ہے جس کے باعث کھڑی فصلیں برباد ہوگئی ہیںسرکاری اعداد و شمار کے مطابق بدین میں پندرہ لاکھ، ٹنڈو محمد خان میں چھ لاکھ میرپورخاص میں دو لاکھ اور تھرپارکر میں تیس ہزار لوگ متاثر ہیں، تاہم ان میں سے چند ہزار لوگ ہی ضلعی انتظامیہ کے کیمپوں میں منتقل ہو سکے ہیںبدین کی ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرین کے لیے 144 کیمپ لگائے گئے ہیں، جن میں چالیس ہزار لوگ موجود ہیں ایک رپورٹ کے مطابق جماعةالدعوة کے کیمپوں میں بھی متاثرین کی بڑی تعداد مقیم ہے جہاں ان کے سحروافطار کا بندوبست کیا جارہا ہے متاثرین میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جن میں سے کسی کا گھر گر گیا ہے یا کسی کی زمین زیر آب آگئی ہے بدین اور میرپورخاص کا اکثر علاقہ ایل بی او ڈی کے سیم نالے میں شگاف پڑنے سے زیر آب آیا ہے، صرف بدین میں ایل بی او ڈی اور دیگر برانچوں میں چالیس سے زیادہ شگاف پڑے ہیں اور یہ شگاف اب تک بند نہیں کیے جا سکے ہیں بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں ابھی تک کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے گولارچی اور کھوسکی میں جماعةالدعوة کے رضاکار موٹر بوٹس کے ذریعہ پانی میں پھنسے افراد کو ان کے مال مویشیوں سمیت محفوظ مقامات پر پہنچا رہے ہیںسینکڑوں افراد کو اب تک موٹر بوٹس کے ذریعہ محفوظ مقامات تک پہنچایا جا چکا ہے پنگریو کے قریبی گاو¿ں محمد ملوک جت کے رہائشی حبیب جت کاکہنا ہے کہ ان کا گاو¿ں مکمل طور پر زیر آب آگیا ہے اور نصف مکانات منہدم ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ لوگ آس پاس کے اسکولوں میں منتقل ہوگئے ہیں اور بعض نے سڑکوں پر کھلے آسمان کے نیچے ڈیرے ڈالے ہیں۔خیمے یا کھانے پینے کا کوئی بندوبست نہیں، پینے کا پانی بھی ناقابل استعمال ہے مگر مجبوری میں استعمال کر رہے ہیںدریں اثناءصوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں واقع دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر چودہ فٹ سیلابی ریلا گزر رہا ہے اور ستّر ہزار کیوسک کا ریلا گنڈا سنگھ کے مقام سے گزرے گا۔دریائے ستلج میں سیلابی ریلے سے سینکڑوں ایکڑ اراضی اور دس سے پندرہ دیہات زیرِ آب آ چکے ہیںحکام کے مطابق، گزشتہ پندرہ سال میں یہ سب سے بڑا سیلابی ریلا ہوگا جس کی وجہ سے ضلع کے تمام افسران اور ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔ڈی سی او قصور سید ارشاد حسین شاہ کی نگرانی میں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی تیاری کی جارہی ہے اور اس کے لیے علاقہ میں رینجرز اور فوج کو بھی تیاری کے مراحل میں رکھا گیا ہے۔ درجنوں دیہاتوں میں وارننگ جاری کردی گئی ہیں جبکہ مقامی مساجد میں اعلانات کروا کے لوگوں سے اپیل کی جارہی ہے کہ وہ اپنے مویشی اور قیمتی سامان نکال لیں۔دریائے ستلج میں سیلابی ریلا گزرنے کے باعث سینکڑوں ایکڑ اراضی اور دس سے پندرہ دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں۔ سیلابی پانی کے باعث سینکڑوں ایکڑ پر کاشت کی گئی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔زیرِآب آنے والے دیہاتوں میں بھکی ونڈ، کلنجر، مبوکے، رنگے والا، رتنے والا، تھٹی فرید، بستی بھنگا، کتلوہی، وزیرپور، وغیرہ شامل ہیں۔
|