|
میمو کمیشن کے سامنے حسین حقانی کے منصور اعجاز کو پیغامات آنے پراٹارنی جنرل کا فرانزک ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ |
|
|
|
بدھ, 22 فروری 2012 19:37 |
اسلام آباد(عزیز الرحمان سے)میمو کمیشن کولندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے سکینڈل کے مرکزی کردار منصور اعجاز کی طرف سے بطور شہادت پیش کردہ اپنے بلیک بیری میں امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے پیغامات کا اٹارنی جنرل نے فرانزک ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کردیا۔ بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں کمیشن کے سامنے منصور اعجاز کی طرف سے ویڈیو لنک سے پیش کردہ شواہد پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ سیکرٹری کمیشن بلیک بیری پیغامات کی تکنیک کو نہیں جانتے‘ کمپنی ہی بلیک بیری ڈیٹا کی تصدیق کرسکتی ہے‘ 81 پیغامات ہیں ان کی سچائی کا تعین کیسے ہوگا ؟۔ حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری نے کہا کہ گواہ کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ وہ فون سے مسلسل کھیل رہے ہیں اور گواہ کے ساتھ بیٹھے سیکرٹری کمیشن بھی اسے نہیں روک رہے ۔جس پر کمیشن کی ہدایت پر منصور اعجاز نے اپنا فون میز پر رکھ دیا۔ زاہد بخاری نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ باہر بیٹھے گواہ پر یہاں سے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا۔ گواہ کے ایسے بیانات ریکارڈ ہونے پر اعتراض اٹھائیں گے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے اس پر حسین حقانی کے وکیل سے کہا کہ مداخلت کی بجائے آپ بتائیں کہ آپ کو اعتراض کیا ہے تاکہ انہیں دو رکیا جائے ۔ زاہد بخاری نے کہا کہ نہ میں لندن میں ہوں نہ بلیک بیری اسلام آباد میں ہے۔ بلیک بیری کی تصدیق کیسے کی جاسکتی ہے۔ سیکرٹری کمیشن نے کہا کہ ہم نمبر نہیں دیکھ رہے تحریر دیکھ رہے ہیں۔ منصور اعجاز کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ سیکرٹری کمیشن موقع پر موجود ہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ بلیک بیری سیکرٹری کمیشن کو دیں وہ پیغام کی تصدیق کریں گے۔ او راس موقع پر جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیکرٹری کی تصدیق کے بعد ہی پیغامات پڑھے جائیں اور سیکرٹری کی تصدیق کے بعد پیغامات پڑھے گئے۔
میمو کمیشن کے روبرو منصور اعجاز کے بیان کی ریکارڈنگ کے دو ران حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری نے بار بار اعتراضات ، کمیشن کے چیئرمین نے سختی سے ان کی سرزنش کر دی میمو کمیشن کے روبرو لندن سے وڈیو لنک کے ذریعہ میمو کمیشن کے مرکزی کردار منصور اعجاز کے بیان کی ریکارڈنگ کے موقع پر منصور اعجاز کے سامنے رکھی ہوئی دستاویزات اور بیان ریکارڈنگ کے دوران حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری نے بار بار اعتراضات کئے تو کمیشن کے چیئرمین نے سختی سے ان کی سرزنش کر دی ‘زاہد بخاری نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ منصور اعجاز کی شہادت کو شارٹ ہینڈ میں لکھنے کی بجائے اردو یا انگریزی میں تحریر کیا جائے کمیشن کے سربراہ نے زاہد بخاری کا یہ اعتراض مسترد کردیا۔ زاہد بخاری کا موقف تھا کہ شہادت ہمیشہ اردو یا انگریزی میں ریکارڈ کی جاتی ہے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ بیان کی ریکارڈنگ پر آپ کو کوئی شک شبہ نہیں ہونا چاہئے اگر ایک شخص اپنا بیان شارٹ ہینڈ اور انگریزی میں ریکارڈ کروارہا ہے اور تمام کارروائی کی ریکارڈنگ بھی کی جارہی ہے تو آپ کا اعتراض نہیں بنتا۔ حسین حقانی کے وکیل زاہد بخاری نے جب منصور اعجاز کے بیان کی ریکارڈنگ کے دوران بار بار مداخلت جاری رکھی تو کمیشن کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان کی سختی سے سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ہمارا کام کرنے دیا جائے بار بار مداخلت نہ کریں۔ اس پر زاہد بخاری نے کہا کہ آپ غصے میں نہ ہوں میری تو یہی استدعا تھی کہ منصور اعجاز کا بیان میری لندن موجودگی میں ریکارڈ کیا جاتا مجھے ویزہ ایک روز پہلے ہی ملا ہے لندن پہنچنا میرے لئے ممکن نہیں تھا جس پر قاضی عیسیٰ نے کہا کہ پہلے آپ درخواست دیں کہ میں خود جا کر لندن جرح کرنا چاہتا ہوں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے زاہد بخاری سے کہا آپ کو جرح کا پورا موقع دیں گے اور یہ بھی دیکھ لیں گے کہ آپ کا لندن جانا ضروری ہے یا نہیں۔
میمو سکینڈل کے مرکزی کردار منصور اعجاز نے میمو کمیشن کو وڈیو لنک سے اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے موقع پر کہا کہ حسین حقانی اور میرے درمیان ہونے والے رابطوں کو ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے ممکن ہے کہ میں ہر بات زبانی نہ بتا سکوں تاہم تمام باتیں میں نے اپنے تحریری بیان میں لکھ دی ہیں جو کہ مکمل طور پر درست ہیں اور اسے میرا بیان حلفی تصور کیا جائے۔
منصور اعجاز کا کمیشن کے روبروصدرزرداری،سابق صدر مشرف،آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل احسان الحق اور موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا سمیت دیگر حکام سے ملاقاتوں کا اعتراف،اب پاکستانی حکام کیساتھ میرے تعلقات پہلے سے کم ہوگئے ہیں،میمو سکینڈل کے مرکزی کردار منصور اعجاز
میمو سکینڈل کے مرکزی کردار منصور اعجاز نے میمو کمیشن کو بتایا ہے کہ وہ گذشتہ دس سال سے پاکستانی حکام سے رابطوں میں تھے‘ میری اب تک موجودہ صدر آصف علی زرداری‘ سابق صدر پرویز مشرف‘ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل احسان الحق اور موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاعت پاشا سمیت کئی اعلی حکام سے ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ بدھ کو لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن سے ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرائے جانے والے اپنے بیان میں منصور اعجاز نے کہا کہ اب پاکستانی حکام کیساتھ میرے تعلقات پہلے سے کم ہوگئے ہیں‘ منصور اعجاز نے کمیشن کو صدر زرداری سے اپنی ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ صدر زرداری کے 2009ءمیں دورہ امریکہ کے دوران حسین حقانی نے میری صدر زرداری سے ملاقات کروائی‘ حتمی تاریخ نہیں بتاسکتا‘ یہ ملاقات واشنگٹن میں ایک گھنٹے تک جاری رہی تھی‘ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا سے لندن میں ہونے والی ملاقات کے حوالے سے منصور اعجاز نے بتایا کہ آئی ایس آئی کے ایک سینئر آفیسر نے مجھ سے رابطہ کیا تھا جس کے بعد یہ ملاقات ہوئی۔ منصور اعجاز نے بتایا کہ اس کے علاوہ اس کی سابق صدر پرویز مشرف اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل احسان الحق سے بھی میری ملاقات ہوئی تھی۔
میمو کمیشن کے مرکزی کردار منصور اعجاز اپنا بیان ریکارڈ کرانے کیلئے بروقت پاکستان ہائی کمیشن پہنچ گئے‘میڈیا نے گھیر لیا،سب حقائق کھول کر کمیشن کے سامنے رکھ دوں گا‘اپنا بیان دینے سے خوفزدہ نہیں مجھے توبیان ریکارڈ کرانے کا شدت سے انتظار تھا ‘مجھے خوفزدہ کرنے کی بہت کوشش کی گئی کہ میں اپنا بیان ریکارڈ نہ کراﺅں‘منصور اعجاز کی مختصر بات چیت میمو گیٹ سکینڈل کے مرکزی کردار منصور اعجاز سپریم کورٹ کے حکم پر معاملہ کی تحقیقات کیلئے بنائے گئے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی میمو کمیشن کے سامنے ویڈیو لنک سے اپنا بیان ریکارڈ کرانے بدھ کو صبح 9 بجے س پہلے پاکستانی ہائی کمیشن پہنچ گئے‘ منصور اعجاز پاکستانی ہائی کمیشن پہنچے تو وہاں پر پہلے سے موجود میڈیا نے ان کو گھیرے میں لے لیا تاہم انہوں نے میڈیا سے زیادہ بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ سب حقائق کھول کر کمیشن کے سامنے رکھ دیں گے اور سب کچھ سچ بیان کریں گے میں اپنا بیان دینے سے خوفزدہ نہیں اور سب کچھ بتا دونگا‘ میں تو اپنا بیان ریکارڈ کرانے کا شدت سے انتظار کررہا تھا مجھے خوفزدہ کرنے کی بہت کوشش کی گئی کہ میں اپنا بیان ریکارڈ نہ کراﺅں۔ منصور اعجاز بیان ریکارڈ کرانے کیلئے پاکستانی ہائی کمیشن پہنچے تو ان کے پاس لیپ ٹاپ‘ بیگ کے علاوہ ایک مشین اور کیمرہ بھی تھا۔ منصور اعجاز نے کہا کہ ان میں سارے شواہد موجود ہیں۔
جو کچھ کہوں گاسچ کہوں گا،جھوٹ بولوں تو مجھ پر خدا کا قہر نازل ہو،منصور اعجاز کا کمیشن کو بیان ریکارڈ کرانے سے پہلے حلف میمو کمیشن کے مرکزی کردار منصور اعجاز نے میمو کمیشن کو لندن سے اپنا بیان وڈیو لنک کے ذریعہ ریکارڈ کرانے سے پہلے حلف دیا کہ وہ جو کچھ کہیں گے سچ کہیں گے اور اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر خدا کا قہر نازل ہوجائے۔ منصور اعجاز نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا کہ وہ امریکی شہری ہیں اور امریکی قوانین کے پابند ہیں منصور اعجاز نے کمیشن کو اپنی ولدیت مجدد احمد اعجاز بتائی اور اپنا پتہ ریاست ورجینیا امریکہ کا لکھوایا۔ میمو کمیشن کے ارکان نے آغاز پر منصور اعجاز سے سوال کیا کہ کیا وہ اردو بول سکتے ہیں تو منصور اعجاز نے کہا کہ میں اردو بول نہیں سکتا جس کے بعد منصور اعجاز اور کمیشن کے ارکان کے درمیان تمام بات چیت انگریزی میں ہوئی۔
منصور اعجاز کے بیان کی ریکارڈنگ سے قبل سیکرٹری میمو کمیشن نے کمیشن کو منصور اعجاز کی موجودگی کی تصدیق اور شناخت کرائی میمو کمیشن کے مرکزی کردار منصور اعجاز کا لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن سے اسلام آباد میں وڈیو لنک کے ذریعہ بیان کی ریکارڈنگ کے آغاز پر لندن میں پہلے سے موجود سیکرٹری میمو کمیشن راجہ جواد عباس نے اسلام آباد میں میمو کمیشن کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ارکان کو وڈیو لنک سے منصور اعجاز کی موجودگی کی تصدیق اور شناخت کی۔ سیکرٹری میمو کمیشن نے منصور اعجاز کا پاسپورٹ اور دیگر دستاویزی شواہد بھی کمیشن کو دکھائے۔
|