|
الیکشن سے قبل الیکشن کمیشن کے تین سو سولہ افسران کی ایک ساتھ اگلے عہدوں اور گریڈز میں ترقی سے شکو ک و شبہات نے جنم لیاہے: سید منور حسن |
|
|
|
بدھ, 22 فروری 2012 17:55 |
لاہور(ناظم حسین سے)امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے کہاہے کہ پاکستان کے بارے میں امریکہ کی پالیسی منافقت پر مبنی ہے ۔ امریکہ ایک طرف کہتاہے کہ وہ پاکستان کی خود مختاری کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا اور اس کی سرحدی حدود کا ا حترام کرتاہے ، دوسری طرف کہاجارہاہے کہ بلوچستان سے متعلق قرار داد پر فیصلہ جمعہ تک متوقع ہے اور قرار داد پرکا روائی جاری ہے ۔ امریکہ بھارت اور اسرائیل پاکستان کو توڑنے کے ناپاک منصوبے پر تیزی سے عمل پیرا ہیں ۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور بلوچستان کے عوام کے مسائل حل کرنے میں اخلاص کے ساتھ پیش رفت کریں ۔ برطانیہ سے ڈرون حملے رکوانے کی درخواست کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور اے پی سی کی قراردادوں پر عمل کیا جائے ۔ ڈرون طیاروں کو مارگرایا جائے اور امریکی جنگ سے باہر نکلنے کا واضح اعلان کیا جائے ۔ الیکشن سے قبل الیکشن کمیشن کے تین سو سولہ افسران کی ایک ساتھ اگلے عہدوں اور گریڈز میں ترقی سے شکو ک و شبہات نے جنم لیاہے۔ انہوں نے یہ بات منصورہ میں مرکزی مجلس شورٰی جماعت اسلامی حلقہ خواتین پاکستان سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔سید منور حسن نے کہاکہ امریکہ ، بھارت اور اسرائیل کا ٹرائیکا باقاعدہ منصوبے کے تحت پاکستان کے ٹکڑے کرنے کے ناپاک ایجنڈے پر عرصے سے کام کررہاہے ۔ بھارت کی افغانستان کے راستے بلوچستان میں کھلم کھلا مداخلت کے ثبوت پاکستانی حکام کے پاس موجود ہیں اس کے باوجود بھارت کو ایم ایف این کا درجہ دینے کے لیے بے تابی ہے ۔ در اصل امریکہ اور اسرائیل پاکستان کو توڑ کر اور کمزور کر کے بھارت کو خطے میں بڑا بنانا اور چین اور ایران کا گھیراﺅ کرناچاہتے ہیں ۔ خدانخواستہ بلوچستان الگ ہوا تو اس کے پورے خطے پر دور رس اثرات پڑیں گے اور پاکستان کی اس وقت خطے میں جو حیثیت ہے وہ کمزور پڑ جائے گی ۔ اس لیے پاکستانی حکمران بلوچستان کے عوام کو اعتماد میں لیں ۔ وہاں آپریشن بند کر کے مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے ۔ لاپتا افراد کو بازیاب کیا جائے اور بلوچستان کے وسائل پر وہاں کے عوام کا حق تسلیم کرتے ہوئے انہیں حقوق دیئے جائیں ،زبانی لیکچرز اور وعدوں کا وقت گزر گیاہے ، مزید تاخیر کی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ مسلمان حکمران امریکی مفادات کی نگرانی کر رہے ہیں جس کا فائدہ اٹھا کر امریکہ اس خطے اور پوری دنیا میں اپنا نیوورلڈ آرڈر نافذ کرنا چاہتاہے لیکن جبر کے ہتھکنڈوں کے باوجود اس کا عالمی نظام اس ریجن میں بروئے کار نہیں آسکا کیونکہ یہاں ایران اور چین بھی موجود ہیں ۔ بھارت کا رول مختلف ہے ۔ امریکہ اس کو تھپکی بھی دیتاہے اور اس کی حمایت بھی کرتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا عالمی نظام امریکہ کے عالمی نظام سے ہزارگنا موثر اور آفاقی ہے ۔ اس وقت غلبہ اسلام اور امریکی نظام کے درمیان محاذ آرائی اور کشمکش موجود ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی حکمرانوں کی بزدلی کی وجہ سے پاکستان میں امریکہ کا عمل دخل بڑھ گیاہے ۔ وہ کھلم کھلا ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت اور ڈکٹیٹ کرتاہے ۔ پاکستان کے تیل و گیس کے منصوبے اور معاہدے امریکہ کو پسند نہیں ۔ سندھ کے کوئلے کے ذخائر سے بجلی بنانے کے ٹھیکے وہ چین کو دینے نہیں دیتا۔ پاکستان پر روزانہ ڈرون حملے کیے جارہے ہیں ۔ لاپتہ افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ۔ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جارہاہے ۔ ملک میں لاقانونیت ، مہنگائی ، بے روزگاری ، لوڈشیڈنگ میں اضافہ کیا جارہاہے تاکہ پاکستان کو ایک ناکام ریاست اور ایٹمی اثاثوں کو غیر محفوظ قرار دے کر ان پر قبضہ کر لیا جائے۔
|