|
تنازعہ کشمیر جائز مسئلہ ہے،64 سال سے اس کا حل نہ ہونامسلم امہ اور دنیا کے لیے بڑا چیلنج ہے:اسلامی تنظیم کانفرنس کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عبداللہ بن عبدالرحمن عالم اور عبدالرّشید ترابی کے درمیان اہم ملاقات |
|
|
|
بدھ, 22 فروری 2012 17:45 |
جدہ ( پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام )اسلامی تنظیم کانفرنس (او آئی سی) نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بہت جلد” او آئی سی“ انسانی حقوق کمیشن کا ایک وفد مقبوضہ کشمیر بھیجے گی ،مسئلہ کشمیر ایک جائز مسئلہ ہے ،64 سال سے مسئلہ کشمیرکا حل نہ ہونامسلم امہ اور دنیا کے لیے بڑا چیلنج ہے۔مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیاسمیت پوری دنیا کے امن کو خطرہ لاحق رہے گا۔مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے” او آئی سی “ کے ممبر ممالک کے” رابطہ گروپ“ کی مشاورت سے مزید عملی اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے ۔سید علی گیلانی کو سفری دستاویزات فراہم نہ کرنے پر حکومت بھارت کو خط لکھ کر باقاعدہ احتجاج کیا جائے گا ۔ان خیالات کا اظہار اسلامی تنظیم کانفرنس کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور کشمیر کے لیے خصوصی نمائندے عبداللہ بن عبدالرحمن عالم نے امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر عبدالرّشید ترابی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنھوں نے ان سے یہاں خصوصی ملاقات کی ۔ملاقات میں کشمیری عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر نے ڈپٹی سیکریٹری جنرل او آئی سی کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال سے تفصیلی آگاہ کیا اور ان سے کشمیری عوام اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنے کی اپیل کی ۔ اس موقع پر عبدالرّشید ترابی نے کشمیری عوام کے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کا او آئی سی کے نام خصوصی خط بھی پہنچایا ،جس میں انھوں نے او آئی سی سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے خصوصی طور پر عملی اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔عبدالرّشید ترابی نے ڈپٹی سیکریٹری” او آئی سی “کو بتایا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں پرامن جدوجہد کے باوجود بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے ۔کالے قوانین کے ذریعے کشمیری عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ۔حال ہی میں سیکڑوں کی تعداد میں کشمیری نوجوانوں کی گمنام قبریں دریافت ہوئی ہیں ،جس پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی چیخ اٹھی ہیں۔بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کوگھر میں نظر بند رکھا جا رہاہے ۔انھیں بھارتی حکومت حج اورعمرے کے لیے سفری دستاویزات جاری نہیں کر رہی ۔حتیٰ کہ انھیں جمعہ کی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔عبدالرّشید ترابی نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مثبت اور ٹھوس قراردادیںپاس کرنے پر او آئی سی کاشکریہ ادا کیا اور ڈپٹی سیکریٹری جنرل اوآئی سی سے کہا کہ بھارت ان قراردادوں کے باوجود کشمیری عوام کے قتل عام کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔چوں کہ کشمیری عوام بھی اس دنیا اور امت مسلمہ کا حصّہ ہیں اس لیے مسلم امہ کی نمائندہ تنظیم ہونے کے ناطے او آئی سی مزید مثبت اور ٹھوس اقدامات اٹھائے ۔مسلم ممالک کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ ان کے ذریعے دنیا اور بھارت سے اپنی بات منوا سکتے ہیں اس لیے اگر بھارت مقبوضہ کشمیر سے کالے قوانین کا خاتمہ ،کشمیری عوام کاقتل عام بند نہیں کرتا اور انھیں ان کا عالمی سطح پر تسلیم شدہ حق ،حقِ خودرادیت نہیں دیتا تو او آئی سی کے ممبر ممالک بھارت کے ساتھ تجارتی و سفارتی تعلقات پر نظر ثانی کریںاور فیکٹ فائنڈنگ مشن مقبوضہ کشمیر میں بھیجیں۔اس پر او آئی سی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل عبداللہ بن عبدالرّحمن عالم نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 64 سال سے مسئلہ کشمیر کا حل نہ ہونا ناصرف اسلامی ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے ۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی پہلے بھی مسئلہ کشمیر کے بارے اپنا واضح م¶قف بیان کر چکی ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ قراردادیں پاس کی جا چکی ہیںاور اب بھی کشمیری عوام کی ہر سطح اور ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی اور ان کے جائز حق ،حقِ خودرادیت کی حمایت جاری رکھے گی ۔انہوں نے مزید کہاکہ مسئلہ کشمیرایک جائز مسئلہ ہے جس کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا کے امن کو خطرات لاحق رہیں گے ۔اس لیے ہم ممبر ممالک کے رابطہ گروپ سے مشاورت کے بعد اس سلسلے میں مزید اقدامات اٹھائیں گے اور بہت جلد انسانی حقوق کمیشن کا ایک وفد مقبوضہ کشمیر بھیجا جائے گا جو وہاں کے حالات کا جائزہ لے گا ۔انہوں نے کہاکہ وہ کشمیری عوام کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں ۔” میں نے اپنے دورہ مقبوضہ کشمیر کے دوران خود دیکھا کہ بھارت وہاں پر مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے“ ۔ہم کشمیری عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم کی شدیدمذمت کرتے ہیں۔انہوں نے بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کے حوالے سے کہا کہ انھیں سفری دستاویزات فراہم نہ کرنے پر ہم بھارتی حکومت سے باقاعدہ احتجاج کریں گے اور اسے خط لکھیں گے ۔
|