|
خرم رسول کيس ہائي پروفائل بن گيا، حساس معاملات اٹھيں گے، چيف جسٹس |
|
|
|
جمعہ, 27 جنوری 2012 14:36 |
اسلام اباد(پاک میڈیا اپ ڈیٹس ڈاٹ کام ) فراڈ کيس کے مرکزي ملزم خرم رسول نے سپريم کور ٹ ميں اعتراف کيا ہے کہ وہ وزير اعظم گيلاني کے ميڈيا ارڈينيٹر رہے ہيں. چيف جسٹس کي سربراہي ميں 3 رکني بنچ فراڈ کيس کي سماعت کررہا ہے. سپريم کورٹ ميں اپنا بيان ديتے ہوئے خرم رسول کا کہنا تھا کہ اسے فون پر دھمکياں دي جاتي ہيں اور وزير اعظم کو بھي ملوث کيا گيا، بچوں کے قتل تک کي دھمکياں دي گئيں، ميري اہليہ کو اٹھانے کي دھمکياں دي گئيں، يہاں تک کے مجھے کہا گيا کہ ہم وزير اعظم کو بھي اٹھا ليں گے، اہليہ ، والدہ کے خلاف جو باتيں کي گئيں دل چاہتا ہے کہ خود کو مارلوں. خرم رسول نے کہا کہ افغان کارپٹ والے سے سندھ ہائي کورٹ ميں دعوے چل رہے ہيں، اس کے بعد دس گيارہ کروڑ کا مسئلہ رہ گيا ہے اسے بھي حل کر لوں گا.اس سے قبل خرم رسول کو ہتھکڑي لگاکر سپريم کورٹ لاياگياجس پر جسٹس خلجي عارف نے برہمي کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خرم رسول نے تو خود گرفتاري پيش کي ، ايف ا?ئي اے کس چيز کا کريڈٹ لے رہي ہے. چيف جسٹس نے ريمارکس ديئے کہ باہر تو ايف ا?ئي اے والے اسے لي کر گھماتے رہے، يہاں ہتھکڑي لگادي، يہ کيا ڈرامے بازي ہے . عدالت کي برہمي کے بعد ايف ا?ئي اے نے خرم رسول کي ہتھکڑي کھول دي. چيف جسٹس نے ريمارکس ديئے کہ کيس ہائي پروفائل بن گيا ہے، بہت حساس معاملات اٹھيں گے، کسي دوسرے تفتيشي ادارے کو بھي شامل کيا جائے.
|